خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 937
خطبات طاہر جلد ۱۲ 937 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء ہوتی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ یہ لذت روحانی نہیں تھی جس قسم کے جسمانی شہوانی غلامیوں میں یہ لوگ جکڑے ہوئے ہیں ویسی ہی ان کی لذت ہے۔یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ ایک شخص کو ذکر الہی سے لذت نصیب ہو اور وہ پاک نہ ہو۔اس کے وجود میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہ ہوا سے اعمالِ صالحہ سے محرومی قائم رہے۔پس وہ لوگ جو ان مجلسوں میں جاتے ہیں جیسے بد اعمال لے کر جاتے ہیں ویسے ہی بد اعمال لے کر واپس آ جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان مجلسوں میں جانا برائیوں کو کم کرنے کی بجائے برائیوں میں اضافے کا موجب بن جاتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں یہ رواج ہے کہ بعض دفعہ عورتیں بھی گھنگر و پہن کر اور بعض بازاری عورتیں اپنی روحانیت کے اظہار کے لئے اس طرح میدان میں نکلتی ہیں کہ تھرکتی ہوئی رقص کرتی ہوئی ان کے گیت گاتے ہیں اور لوگ ان عورتوں کے نظارے میں محو ہو جاتے ہیں اور دنیا سمجھ رہی ہے کہ یہ بھی خدا والے ہیں وہ بھی خدا والی ہے اور کوئی پاک تبدیلی پیدا ہونے کی بجائے نفسانی شہوات پہلے سے بڑھ جاتی ہیں جب وہ واپس آتے ہیں۔اور ایسے سلسلے مزاروں پر بھی چلتے ہیں ہر قسم کی بدیوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں وہاں Drug addiction کے نظارے دیکھنے ہوں تو سب سے زیادہ ان مزاروں پر دکھائی دیں گے۔بڑے بڑے مست فقیر بیٹھے ہوئے ہیں جو دراصل کوئی نہ کوئی نشہ کر رہے ہیں۔اور وہ اس دنیاوی نشے میں اپنے ذات کو کھوئے ہوئے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اہل اللہ لوگ ہیں خدا میں اپنے آپ کو مگن کر دیا خدا کی ذات میں کھوئے ہوئے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تجزیہ دیکھیں کتنا پیارا، کتنا پاک اور صاف ہے فرمایا یہ تو نہیں کہ لذت ان کو نہیں آتی۔وہ تو حال ڈالتے بعض دفعہ ان کو دورے پڑ جاتے ہیں بعض دفعہ کا نپتے ہوئے وہ بے ہوش ہو کے وہ زمین پہ جاپڑتے ہیں۔لیکن فرمایا لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا۔“ لذت نفس سے بھی ویسی ہی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔شہوانی جذبات کی جب سیری ہو۔اس دوران جبکہ شہوانی جذبات کی سیری کی طرف انسان بڑھ ہوتا ہے جسمانی لحاظ سے بعض دفعہ ویسے ہی لرزے طاری ہو جاتے ہیں۔جیسے اللہ کے ذکر میں اس کی محبت میں آگے بڑھتے ہوئے بعض دفعہ سارے وجود پر ایک تھر تھری آجاتی ہے، ایک زلزلہ سا طاری ہو جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ان دونوں چیزوں میں فرق اگر دیکھنا ہے تو ان کے اعمال کا جائزہ لو اگر وہ