خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 933 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 933

خطبات طاہر جلد ۱۲ 933 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء صلى الله حاصل کرنے کی ، ذکر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہو، ذکر الہی میں مصروف رہنے کی کوشش کرتے ہو اور انسانی کوششوں کی حد تک تم ایمان بھی لے آئے ہو اور عمل صالح بھی اختیار کر چکے ہولیکن جب اس وجود کی پیروی کرو گے جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہیں۔ان سے ذکر کے آداب سیکھو گے ان سے حقیقت میں نور کا حصہ پاؤ گے جونور خدا نے عطا فرمایا ہے۔تمہیں یوں محسوس ہوگا جیسے تم اندھیروں میں تھے اور روشنیوں میں نکل آئے ہو۔یہ جو واقعہ ہے یہ ایک دفعہ ہور ہنے والا واقعہ نہیں ہے یہ ایک مسلسل جاری واقعہ ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر ایمان لانے والے اور اعمال صالح کرنے والے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں جب آپ کی احادیث پر غور کرتے ہیں تو ایک مرتبہ نہیں سینکڑوں ہزاروں مرتبہ اگر انہیں شعور حاصل ہو ان کو یوں محسوس ہو گا کہ وہ بہت سے اندھیروں کی حالتوں میں زندگی بسر کر رہے تھے اور نئے رستے کھلتے ہیں روشنی کی طرف جانے کے، نئے بلاوے آتے ہیں نور کی طرف۔پس حضور اکرم یا اللہ کا یہ فرض اور یہ مقام اور یہ مرتبہ کہ اندھیروں سے نور کی طرف لانے والا ہے اس کا تعلق محض کافروں اور منکرین سے نہیں ہے بلکہ ہر مومن سے اس کی زندگی کے آخری سانس تک جاری رہتا ہے اور آنحضرت ﷺ ان لوگوں کو جو سمجھتے ہیں کہ ہم اہلِ نور ہیں ان کو وہ الہی نور عطا کرتے ہیں کہ جب وہ مڑ کر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ہماری گزشتہ زندگی ایک تاریکی میں بسر ہو رہی تھی۔پس قرآن کریم نے دیکھیں کس گہرائی کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا تعارف فرمایا اور کس طرح ہمارے جیسے کمزور انسانوں کی ہر طرح کی غلط نبی کو دور فرما دیا کہ تم بظاہر کیسا ہی ذکر کر رہے ہو کیسے ہی نیک اعمال بجالا رہے ہو محمد ﷺ کی محتاجی سے باہر نہیں جا سکتے۔جس دن تم نے اس محتاجی سے باہر قدم رکھا تم اندھیروں کی طرف لوٹ جاؤ گے۔یہی وجود ہے جس کی طرف لازما ہر حال میں، ہمیشہ کوشش کر کے انچ انچ ، جتنی توفیق ملے قریب تر ہونا پڑے گا اور جب تک قریب ہوتے رہو گے تم اندھیروں سے روشنی کی طرف حرکت کرتے رہو گے۔وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا اب دوبارہ پھر دہرایا ہے وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا تُدْخِلْهُ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ اس ایمان کے بعد جس کا پہلے ذکر چلا ہے۔ان اعمال صالحہ کے بعد جن کا پہلے ذکر ہو چکا جب تم محمد رسول اللہ