خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 929
خطبات طاہر جلد ۱۲ 929 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء سے آئیں گے اور واپس چلے جائیں گے تو یہ کم سے کم ضروری ہدایت ہے جس پر عمل کرنا چاہئے۔لجنہ اماءاللہ سنگا پور اور اسی طرح انڈونیشیا کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ ان اقدار کو اپنے ہاں رائج کرنے کی کوشش کریں ان ملکوں میں الا ما شاء اللہ پر دے کا رواج بہت کم ہے اور چونکہ اکثر عورتیں سنگا پور میں مثلاً با ہ مختلف کاموں میں حصہ لیتی ہیں اس لئے ان کے لئے اس احتیاط کے ساتھ اپنے آپ کو پردہ میں مقید رکھنا ممکن نہیں ہے جس طرح بعض نسبتا غریب ملکوں میں ممکن ہوتا ہے۔ان کو میری نصیحت یہ ہے کہ احمدی اقدار تو یو نیورسل ہیں یعنی اسلامی اقدار ایسی نہیں ہیں جن کا کسی ایک ملک سے تعلق ہو جہاں تک پردے کی روح کا تعلق ہے اس کی حفاظت دنیا کے ہر ملک میں ممکن ہے۔ایسا نہ ہو تو پھر اسلام ایک پرانے زمانے کا ایک متروک مذہب سمجھا جائے گا۔اسلام ہر زمانے کے لئے ہے، ہر ملک کے لئے ہے۔اس کے احکامات میں کوئی ایسی سختی اور تنگ نظری نہیں ہے جس کے نتیجے میں بعض ملکوں میں اس پر عمل ہی نہ ہو سکے۔پس اسلام نے جہاں بھی ہمیں آداب سکھائے ہیں وہاں مختلف حالتوں سے تعلق رکھنے والے احکامات ہیں اور ایک بڑا وسیع Scepticism ہے۔یعنی ایک وسیع دائرے میں اصول کے تابع یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ ہو تو یوں کر لو یہ ہو تو یوں کر لو یہاں تک کہ آخری صورت میں اس کی روح کیسے قائم رکھی جاسکتی ہے۔اب عبادتوں کو دیکھیں عبادتیں فرض ہیں پانچ وقت مسجد میں جانا مردوں کے لئے فرض ہے۔لیکن مختلف حالتوں میں مختلف نرمی کے سلوک بھی قرآن کریم میں ملتے ہیں احادیث میں بیان ہوئے ہیں اور زندگی عبادت کے ساتھ ساتھ بھی آسان کر دی گئی ہے۔یعنی عبادتوں کو مشکل بنا کے نہیں دکھایا گیا بلکہ ہر حالت کے مطابق ان کو آسان فرما دیا گیا ہے۔پس پردے میں بھی ایک بڑا وسیع مضمون ہے اس پر میں مختلف وقتوں میں روشنی ڈال چکا ہوں۔ان سب باتوں کو میں اب دہرا تو نہیں سکتا۔وہ موجود ہیں ٹیسٹس کی صورت میں چھپے ہوئے مضامین کی صورت میں۔خواتین ان کو دیکھیں، پڑھیں اور غور کریں اور جہاں تک اسلام نے ایک وسیع دائرہ کھینچا ہے اس دائرے کے اندرر ہیں اس سے باہر نہ کیں، باہر نکلے گی تو اس سے نقصان پہنچے گا۔پس انڈونیشیا ہو یا سنگا پور ہو یا افریقہ کے ممالک ہوں جہاں پر دے کے مختلف رنگ رائج ہیں۔ان کو اسلامی پردے کی روح سے قدم باہر نہیں نکالنا چاہئے اور وہ روح ایسی نہیں کہ دکھائی نہ دے۔برقع تو دکھائی دیتا ہے لیکن برقع نہ بھی تو روح دکھائی دیتی ہے۔وہ عورت جو دل کی پردہ دار