خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 927
خطبات طاہر جلد ۱۲ 927 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۳ء اختیار کی جس سے دل شکنی ہو ، دل آزاری ہو تو آپ چاہیں گے بھی تو دوبارہ آپ کو اپنے گھروں میں پنے پھروں میں گھسنے کون دے گا۔ پس طرز میں حسن ادا چاہئے ۔ ایسی طرز سے جدائی ہو کہ دوسرا مجبوری سمجھے اور آپ سے اس کے تعلقات ات منقطع نہ ہوں ۔ دوسرا پہلو ہے کہ بیروں والا چل پڑا ہے اس کے متعلق میں کیا مشورہ دیتا ہوں یا کیا نصیحت کرتا ہوں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض تیسری دنیا کے ملک پہلی دنیا کے ملکوں سے بعض باتیں سیکھتے ہیں اور ان سے کچھ زیادہ ہی آزاد خیال ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ باتیں جو ان ملکوں میں رہ کر احمدی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ ان کے اوپر دو بھر ہو جاتی ہیں۔ یہاں بھی تو خواتین بستی ہیں، یہاں بھی تو شادیاں ہوتی ہیں اور انگلستان میں میں گواہ ہوں اللہ کے فضل کے ساتھ شاید ہی کبھی کوئی شکایت کا موقع پیدا ہوا ہو۔ یہاں خواتین خواتین میں خود کام کرتی ہیں اور مردوں کو بیچ میں گھسنے کی اجازت نہیں دیتیں ۔ تو ایک آزاد ملک اور آزاد ملکوں میں صفِ اول میں کھڑے ہوئے ملک میں رہنے والی احمدی خواتین اگر ان اقدار کی حفاظت کر سکتی ہیں۔ تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں لاہور ہو یا کراچی ہو وہاں کس طرح اتنے زیادہ ایڈوانس لوگ ہو گئے ہیں کہ ان قدروں کی حفاظت کر ہی نہیں سکتے۔ کوئی حکم تو نہیں ہے حکومت کا یا اللہ تعالیٰ کا یہ جب شادی ہو تو ضرور بیروں سے خدمت لو، یہاں میری بچی کی بھی شادی ہوئی تھی اور بھی شادیاں ہوتی ہیں اور جو احمدیت کو وقار عمل نے آداب سکھائے ہیں وہ ان موقعوں پر ہمارے کام آتے ہیں اور یہ روح خدا کے فضل سے بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ انگلستان کی جماعت میں پائی جاتی ہے کہ جہاں کسی بھائی کو ضرورت پڑے اجتماعی خدمت کی مردوں کی ضرورت ہو تو مرد اجتماعی خدمت کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں عورتوں کی ضرورت ہو تو عورتیں اجتماعی ضرورت کے لئے حاضر ہو جاتی ہیں۔ یہاں تو کھانے بھی خود پکاتے ہیں اور الا ماشاء اللہ بعض دفعہ ہوٹلوں سے بھی پکوا لیتے ہیں لیکن خود پکاتے ہیں۔ خود میزیں لگاتے خود کرسیاں لگاتے اس کے بعد برتنوں کی صفائی خود کرتے تو اتنے بڑے کام یہاں ہو سکتے ہیں تو پاکستان کی لجنہ کیوں محروم رہ جاتی ہے کیوں اس کو توفیق نہیں کہ وہ ایسے کام خود کر سکے۔ اگر بیاہ شادیوں کے موقع پر عورتوں کے معاملات ہوں تو لجنہ کو مستعدی اور اخلاص کے ساتھ اپنی خدمات پیش کرنی چاہئیں۔ مردوں کے معاملات ہوں تو انصار اور خدام کو یہ کام سنبھالنے چاہئیں۔ ہم نے ان کو نمونے دینے ہیں ہم نے ان کو دکھانا ہے کہ