خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 923 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 923

خطبات طاہر جلد ۱۲ 923 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء حد تک بعد میں واقعہ ہونے والے اعمال کی طرف توجہ ہوئی یا نہ ہوئی ؟ یہ جو میں نے بیان کیا بعد میں واقع ہونے والے اعمال یہ مشکل سا محاورہ بن گیا ہے لیکن میرے ذہن میں ایک مضمون ہے اس کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ یہ ہے کہ ہر اجتماع کے بعد کچھ نیکیاں دل میں جنم لیتی ہیں، کچھ نیک تمنائیں دل میں پیدا ہوتی ہیں، نیک ارادے لے کر لوگ واپس لوٹا کرتے ہیں۔وہ سب بے کار جاتے ہیں اگر بعد میں کوئی اعمال واقع نہ ہوں اعمال ان کا تنتبع نہ کریں۔ان سے تعلق رکھنے والے اعمال ظاہر ہونے نہ شروع ہو جائیں۔تو یہ جو میں نے کہا کہ بعد میں واقع ہونے والے اعمال اس سے مراد یہ تھی کہ ہر اجتماع کے وقت جو نیک ارادے دل میں پیدا ہوتے ہیں نئی تمنائیں، نئی امنگیں کروٹیں لیتی ہیں ان کا پیدا ہونا اور ان کا دل میں ایک ہنگامہ پیدا کر دینا محض جذباتی چیز ہوگا اگر اس کے بعد نیک اعمال ان کے نتیجے میں پیدا نہ ہوں اور وہ مستقلاً آپ کی زندگی کا حصہ نہ بن جائیں۔روہ پس اجتماع بہت ہی اچھی چیزیں ہیں لیکن اجتماع اگر وہیں ختم ہو جائیں جہاں ان کے ختم ہونے کا اعلان ہوتا ہے تو بالکل ایک بے کار کوشش ہے اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔پس جو بھی آپ نے پروگرام ان اجتماعات میں رکھے ہیں لجنہ کے ہوں یا انصار اللہ کے بعد میں ان کی نگرانی کریں ساتھ ساتھ چلیں۔دیکھیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جب آپ کی والدہ کو خدا تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ یہ اس بچے کو دریا میں بہا دو اور خوف نہ کرو۔بظاہر اتناہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ خدا نے کہہ دیا کہ خوف نہ کرو لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہدایت تھی کہ اس کی نگرانی کرو اس کی پیروی کرو۔چنانچہ حضرت موسیٰ کی بہن ساتھ ساتھ کنارے کنارے چلتی رہی ہیں۔دیکھنے کے لئے کہ یہ صندوق جس میں یہ بچہ بند ہے اس سے کیا ہوتا ہے، کون اس کو پکڑتا ہے کیا واقعہ رونما ہوتا ہے؟ اور وہی تنتبع تھا جس نے بعد میں جا کر اور بابرکت صورتیں اختیار کر لیں۔پس ساتھ ساتھ جا کر دیکھنا یہ زمینداروں کا روزمرہ کا پیشہ ہے۔پانی چھوڑتے ہیں کھیت کے لئے ہر ایک کے ساتھ ساتھ یعنی اس نالی کے ساتھ ساتھ جس میں پانی جاتا ہے چلتے ہیں دیکھتے ہیں کہیں کوئی سوراخ تو نہیں ہے۔اور پھر جب کھیت تک وہ پانی پہنچ جاتا ہے پھر بھی کئی دفعہ اس کھیت کے چکر مارتے ہیں۔یہ دیکھنے کے لئے کہیں سے ٹوٹ تو نہیں گیا، کہیں زیادہ تو نہیں آ رہا، کہیں کم تو نہیں رہ گیا۔پس قرآن کریم نے جو تربیت کے رنگ ہمیں سکھائے ہیں وہ ایسے ہی ہیں۔اس پہلو سے اجتماع تو ایک آغاز ہے بس جس کو آپ اختتام کہتے