خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 915 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 915

خطبات طاہر جلد ۱۲ 915 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء ہیں۔پس وہ فرشتے ہمارے رب ، الہ وسید و شفیع ہیں جو ہمیں رب الارباب اور الہ الا للہ تک پہنچاتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے ذکر الہی سے ملتا ہے۔اس فرقہ کے نزدیک انبیاء کی اطاعت ضروری نہیں کیونکہ وہ تو ہمارے جیسے انسان ہیں ان کی بجائے ہمیں فرشتوں کی اطاعت کرنی چاہئے۔الملل والنحل للشهرستانی جلد دوم صفحه ۹۵ تا ۹۹ برحاشیه کتاب الفصل في الملل و الاهواء والنحل ) اب ان فرقوں کی بات سنئے جو آج کل دوسروں پر فتوے لگانے میں سب سے پیش پیش ہیں۔اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں کہ: ایک دفعہ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی نے یا اللہ کہتے ہوئے بغیر کشتی کے دجلہ پار کیا۔یعنی صرف یا اللہ کہتے جاتے تھے اور دجلہ دریا انہوں نے بغیر کشتی کے پار کر لیا۔ایک شخص نے حضرت کو جاتے دیکھا عرض کی کس طرح آؤں۔فرمایا یا جنید ! یا جنید! کہتا چلا آ ، جس طرح میں نے یا اللہ کہا ہے تو یا جنید کہتا چلا آ۔وہ یہی کہتے ہوئے بے چارہ چل پڑا۔دجلہ پار کر رہا تھا کہ یا اللہ کہنے لگ گیا۔اس شیطانی وسوسے کے نتیجے میں فوراً غوطے کھانے لگا۔“ یہ اہل اسلام کا وہ فرقہ ہے جس کی تعداد ہندوستان اور پاکستان میں سب سے زیادہ ہے اور یہ مسلمان ہے۔کہتے ہیں دیکھوان نے اللہ کہا، اس شیطانی وسوسے کے نتیجے میں وہ غوطہ کھانے لگا۔حضرت جنید نے فرمایا۔ارے نادان ابھی تو جنید تک پہنچا نہیں اللہ تک کیسے رسائی ہوگئی۔ڈوبتے ہوئے کو آواز دی پاگل کہیں کے ابھی جنید تک تو تو پہنچا نہیں ہے اللہ تک کیسے پہنچ گیا۔اسی کی سزامل رہی ہے تجھے۔یا اللہ کہنے کی کیسے جرات ہوئی۔“ ( ملفوظات مجد د مائتہ حاضر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی حصہ اوّل صفحه ۱۱۷) فقیر نور محمد سروری قادری نے ایک مجذوب فقیر کا یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص کا لو نام کا ان پڑھ جٹ۔اس نے کسی بزرگ کے فرمان پر سورہ مزمل کا چالیس روز کا چلہ شروع کیا۔اس مجذوب فقیر کی طرف سے پیغام ملا کہ اگر اسے کلام کا شوق ہے تو یہ سورہ مزمل وغیرہ کا چلہ چھوڑے اس کی جگہ یہ دعا پڑھے۔وہ چلہ یہ تھا۔لا اله من كان الا الله تن كان‘ کوئی مطلب ہی نہیں۔نہایت لغو اور بے ہودہ الا اللہ تن کان “ اس شخص نے بیان کیا کہ میرے ہر رگ وریشہ اور تمام بدن میں اس قدر غوغا اور شور اور جوش و خروش ہوا کہ گویا اس ذکر کا ایک طوفان برپا ہے اور میر اوجود اس ذکر کی لذت