خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 914 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 914

خطبات طاہر جلد ۱۲ 914 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء ان کے مطابق مہدی نے دنیا میں آ کر نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اور دیگر تمام ارکان اسلام کو منسوخ کیا۔نماز کی جگہ صرف ذکر کا حکم دیا۔عبادت کے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں۔یہ شریعت سے وہ بنیادی انحراف ہے جس کی بنا پر ان پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کی مہم چل پڑی ہے۔لیکن یہ مہم حقیقت میں ایک ایسے تعلق میں چلی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ جب علی میں نہیں بلکہ بغض معاویہ میں چلی ہے۔یہ سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے ذکری علاقے سے منتخب ہونے والے ایک ممبر اسمبلی نے کھل کر جماعت احمدیہ کی تائید کی اور اعلان کیا اور اپنی پریس کانفرس میں یہ کہا کہ بالکل ظلم ہوا ہے اور زیادتی ہو رہی ہے اور احمدیوں کو اسلام سے خارج کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں تھا۔اس پر علماء ان کے پیچھے پڑے اور چونکہ ان کا ووٹ ذکری علاقے سے تھا یعنی سیاسی ووٹ ان کو ذکری علاقے سے ملتا تھا اس لئے ان کے خلاف مہم چلاتے ہوئے انہوں نے ذکری فرقے کی صف لپیٹنے کی کوشش کی ہے۔وہ تو اللہ کو پیارے ہو گئے مگر جو اللہ کو پیارے نہیں ہوئے یہ ابھی تک ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور عملاً ان کو بغض معاویہ کی وجہ سے ذکریوں سے بیر ہے یعنی جماعت احمدیہ کی دشمنی میں ذکریوں سے بیر ہے۔ورنہ ان کے ہاں ایسے فرقے ہیں جہاں حیرت انگیز طور پر مشرکانہ عقیدے پائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے صوفی فرقے ہیں جنہوں نے نماز کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے ان کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں ہے لیکن ایک بات ہے کہ ذکریوں نے جہاں نماز کو غیر ضروری قرار دیا وہاں پنجگانہ ذکر کوضروری قرار دیا ہے معلوم ہوتا ہے نماز کی شکل انہوں نے بدلی ہے۔کلیۂ قرآن سے انحراف نہیں ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہر ایک ذکری فرد چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان اس پر پانچ وقت ذکر کرنا فرض ہے۔جو بھی ذکر نہ کرے وہ اپنے فرض سے غافل ہے۔ذکر کثیر کرنے والوں کو ذکری فرقے میں اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ذکر دوطریقوں سے کیا جاتا ہے ایک جلی اور ایک خفی۔ذکر جلی با جماعت ہوتا ہے اور ذکر خفی اکیلے اکیلے۔تو ٹھوکر انہوں نے یقیناً کھائی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی بعض دوسرے فرقے کھا چکے ہیں اور ان سے موجودہ دور کے علماء کوکوئی عناد نہیں۔علامہ شہرستانی فرماتے ہیں۔ایک فرقہ اصحاب الروحانیات بھی ہے۔ان کو کبھی کبھی اسلام سے خارج نہیں کیا گیا۔اس فرقے کا یہ عقیدہ ہے کہ کائنات کا صانع ایک مقدس وجود ہے اور اس کا قرب فرشتوں کی اطاعت کے واسطے سے بھی مل سکتا ہے کیونکہ فرشتے ہی ایسے وجود ہیں جو ہر قسم کی غلطی سے پاک