خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد ۱۲ 907 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء یہی ذکر کافی ہے۔یہ ساری چیزیں نماز کی تیاری کے لئے ہیں اگر یہ ماحول قائم ہوگا تو پھر نماز میں ذکر ہو سکے گا ورنہ نہیں ہوگا اور نماز میں یوں لگے گا کہ عارضی طور پر ہم ان دنیا کی لذتوں سے چھٹی لے کر آئے ہیں اور یہاں سلام پھیر اوہاں اللہ میاں کو سلام اور واپس دنیا میں مائل۔لیکن خدا نے جس دنیا کا نقشہ کھینچا ہے وہاں دنیا کا ہر مشغلہ خدا کی طرف پھینک رہا ہے، انسان کو اس کی طرف کھینچ رہا ہے، اس کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ذکر الہی سے متعلق جو مختلف صوفیا نے سمجھا، یا کہا، یا اس کے مطابق تعلیم دی اس کا مختصر ذکر کرنے کے بعد پھر میں حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے قرآن میں بیان فرمودہ ذکر کی تعریف کروں گا اور آپ کو سمجھاؤں گا کہ حقیقی ذکر کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے اہل لغت نے جو قرآن کی مختلف آیات کو دیکھ کر ذکر کے معانی بیان کئے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ذکر کے معنی ہیں شہرت، نماز، دعا، قرآن کی تلاوت ، تسبیح ، شکر ، اطاعت، اللہ کی حمد و ثنا، شرف اور عزت۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ اِنَّهُ لَذِكْرُ لَكَ وَلِقَوْمِكَ (الزخرف: ۴۵) دیکھ یہ باتیں تیری قوم کی عزت و شرف کے لئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ تو ہیں مختلف تراجم جو ذ کر کے مختلف محل اور موقع کے مطابق کئے گئے ہیں لیکن اس سے بات پوری طرح سمجھ نہیں آسکتی۔صرف ترجمے سننے سے تو آپ کو کچھ مضمون سمجھ نہیں آئے گا۔اب میں آپ کے سامنے پہلے صوفیاء اور دیگر بزرگان امت کے حوالے سے ذکر کے اس مضمون کو پیش کرتا ہوں جو انہوں نے سمجھا اور اس پر عمل کیا اور اس پر لوگوں کو عمل کی طرف بلایا لیکن اس سے پہلے میں آپ کو بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بہت سے ایسے ذکر کرنے والے فرقے پیدا ہوئے جو ذ کر کے مفہوم کو پوری طرح سمجھ نہ سکے یا آغاز میں خالصہ اللہ کے ذکر کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا لیکن بعد میں آنے والے اس مضمون سے غافل ہو کر رسم و رواج کے پابند ہو کے رہ گئے اور ذکر کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ان سب فرقوں پر اسی آیت وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ کا اثر معلوم ہوتا ہے۔آیت کریمہ میں جو فرمایا گیا ہے وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَر کہ اللہ کا ذکر اکبر ہے تو اس سے بعض صوفیاء نے یہ سمجھ لیا کہ نماز جو ہے وہ نسبتا معمولی حیثیت کی چیز ہے اگر ذکر میں مشغول ہو جاؤ تو پھر نماز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔چنانچہ ظلم کی حد ہے کہ ایسے فرقے بھی ایجاد ہوئے جنہوں نے امت کو