خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد ۱۲ 87 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء اُٹھایا ہوا تھا اور اُس کے حسن میں مست تھا اپنے کلے کو ملتا چلا جارہا تھا اور کہ رہا تھا مائم پتھر ، مائم پتھر یعنی اتنا چھوٹا تھا کہ ملائم پتھر کو ملائم پتھر نہیں کہہ سکتا تھا لیکن یہ کہہ رہاتھا کہ مائم پتھر ، مائم پتھر اور اس کو پتا نہیں کہ ٹائم پتھر خدا تعالیٰ نے کس طرح بنایا ہے کتنا لمبا عرصہ اس بیچارے نے آزمائشوں میں سے گزرتے ہوئے تکلیفیں سہی ہیں اور کتنی ٹھوکریں کھا کر وہ پتھر ایک’ائم پتھر بنا تو جماعت احمد یہ بھی اسی طرح مائم پتھر بن رہی ہے۔لمبے تجارب میں سے گزرتی ہے ٹھوکریں کھاتی ہے، جگہ جگہ انا کے جذبات اٹھتے ہیں جگہ جگہ اباء پیدا ہوتا ہے بغاوت اور سرکشی کے رجحان شیطان پھر اُٹھا تا ہے اور پھر ان پر نظر رکھنی پڑتی ہے ان کو سمجھا بجھا کر کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر کہیں نرمی سے کہیں سختی سے حالات کو درست کرنا پڑتا ہے لیکن خوش کن بات یہ ہے کہ ہر جگہ جماعت کارد عمل بالآخر بہت ہی پیارا ہے ہرختی کو برداشت کر جاتی ہے لیکن نظام جماعت سے منہ نہیں موڑتی خلافت سے جو گہرا تعلق ہے وہ ایک ایسا تعلق ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں اور اس تعلق کے برتے پر انسان بعض دفعہ اس یقین پرسختی کرتا ہے کہ یہ خی دور پھینکنے کا موجب نہیں بنے گی بلکہ بالآخر قریب لانے کا موجب بنے گی۔تو وہ لوگ جو مجھے ڈراتے رہے ان سے میں نے کہا کہ میری تو یہ خواہش ہے کہ میری زندگی میں جو کچھ ہونا ہے وہ ہو جائے اور اس صدی میں جماعت سارے عالم میں اس طرح رواں ہو جائے کہ جو بھی کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں باہر نکل آئیں۔جہاں جہاں باغیانہ رجحان پیدا ہوتے ہیں یا ڈیموکریسی کے تصور پر نئی نئی تحریکات چلتی ہیں سب چل جائیں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے گا کہ میں یہ سارے معاملے انشاء اللہ دعائیں کرتے ہوئے اور سمجھاتے ہوئے ہموار کر دوں گا اور میں نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح توفیق دیتا چلا گیا تو اس معاملہ میں اگلے خلیفہ کے ورثہ میں کوئی مسائل باقی رہ جائیں۔ایک مستقل جد و جہد تو اپنی جگہ ہے ہی وہ لوگ جن کی فطرتیں خدا کے حضور ہموار ہو جاتی ہیں ان کے اندر بھی دبے ہوئے شیطان رہتے ہی ہیں۔لیکن میں نظام عالم کی بات کر رہا ہوں جہاں تک میں نے اندازہ لگایا ہے اور میرا تجربہ ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جہاں جہاں عالمی نظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے شروع میں اجنبیت کی وجہ سے کچھ تر ڈر بھی پیدا ہوئے، کچھ باغیانہ رجحان بھی ابھرے لیکن بالآخر خدا کے فضل سے سب بگڑے تگڑے درست اور صاف ہو گئے اور ایک نئے ولولے اور نئی شان اور نئی جان کے ساتھ اطاعت کی پوری روح کے ساتھ نظام جماعت کو