خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد ۱۲ 86 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء فضل کے ساتھ امت واحدہ کے بننے کے ساتھ ایک نظام واحد بنے گا اور کل عالم کے غلامان محمد مصطفی ﷺ اپنی صورت اور سیرت کے لحاظ سے وَالَّذِينَ مَعَةَ کی شکل اختیار کرتے چلے جائیں گے اس میں نہ عربی کا فرق ہے نہ بجھی کا فرق ہے نہ کالے کا نہ گورے کا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ صلى الله اللهِ * وَالَّذِينَ مَعَةَ ( افتح ۳۰) ایک ہی قوم اور قوم کے ایک ہی مالک محمد رسول اللہ کے بیان کئے گئے ہیں اور ان کے ساتھ چلنے والے یعنی وَالَّذِينَ مَعَةَ تو یہ میری تمنا ہے کہ ساری دنیا کے احمدی معہ میں شمار ہونے شروع ہو جائیں۔اس لئے یہ سارے نظام سب جگہ یکساں جاری کرنے ہوں گے خدام الاحمدیہ میں بھی یہی شکل اختیار کی گئی۔انصار اللہ میں بھی اور اسی طرح لجنہ میں بھی پھر خدا کے فضل سے تینوں ذیلی تنظیموں کے علاوہ سب سے اہم مرکزی شوریٰ کا نظام بھی تمام ملکوں میں نافذ کیا گیا اور جب بھی امارتوں کو اس پرانی رٹ سے آزاد کیا گیا جس پر پہلے کام چل رہے تھے تو بعض دفعہ خطرات کا یہ اظہار ہوا کہ اس طرح خودسری کی عادت پیدا ہوگی۔بعض دفعہ خدام جماعت کے کاموں میں دخل دیں گے اور الگ ایک نئی ڈگر اختیار کر لیں گے کہیں انصار دوسرا رستہ اختیار کریں گے بہت انتظامی الجھنیں پیدا ہوں گی ان سے میں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ جب نئے تجربے ہوتے ہیں تو امارت کا نظام نافذ کرنے کے لئے بھی وقتیں ہوں گی۔شروع میں حضرت مصلح موعودؓ نے جب یہ نظام جاری کئے تھے تو اس وقت بھی تو دقتیں تھیں اور ان وقتوں سے گزر کر ہماری اصلاح ہوئی ہے بعض اصلاحات محض نصیحت سے نہیں ہوا کرتیں تجارب سے گزر کر اور رگڑیں لگ لگ کر یہ پنجابی کا لفظ رگڑا میں نہیں استعمال کر رہا وہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے مگر جب رگڑ لگتی ہے تو ایک چیز صاف ستھری ہوتی چلی جاتی ہے وہ پتھر جو پہاڑ کی چوٹیوں سے دریاؤں کے ساتھ ساتھ بہتے ہوئے نیچے آتے ہیں ان میں سے بعض شروع میں بڑے کرخت ہوتے ہیں ان کے کنارے بڑے سخت چھنے والے بے ڈھنگے اور بے ڈھب ہوتے ہیں لیکن سو میل ہزار میل دو ہزار میل جب وہ ایک دوسرے سے رگڑتے ہیں ٹکراتے ہیں اور مختلف قسم کی چکیوں میں پیسے جاتے ہیں تو آخر پر آپ جا کر دیکھیں کہ اتنے خوبصورت اور ملائم پتھر بن جاتے ہیں کہ بڑے بھی ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور چھوٹے بھی۔ایک دفعہ اسی طرح میں نے دریا کے کنارے پر ایک بچے کو دیکھا اس نے ایک چھوٹا سا پتھر