خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 899 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 899

خطبات طاہر جلد ۱۲ 899 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء میں کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو شعور عطا ہوتا ہے۔اور آپ مشاہدہ کے میدان میں داخل ہوتے ہیں۔جو باتیں ابھی میں نے پہلے آپ سے کیس تھیں وہ دراصل مشاہدہ کے میدان کی باتیں تھیں۔کھانا تو آپ روز کھاتے ہیں۔ذکر کے بعد بھی کھائیں گے تو میدان تو وہی رہا مگر ایک غفلت کی حالت میں کھانا تھا اور ایک شعور کی حالت میں۔جب شعور کی حالت میں کھاتے ہیں تو کھانے کے ساتھ ایک اور تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور وہاں اللہ تعالی یاد بھی آتا ہے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دل میں بڑھتا ہے اور اس کے نتیجے میں کئی قسم کے آپ انسانیت کے راز سکھ لیتے ہیں۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے۔کہ ان کے پاس کچھ مرید بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں ایک لڈوؤں کا ٹوکرا آیا تو ٹو کرا ان کو پیش کیا گیا تو انہوں نے سب میں وہ لڈو بانٹے اور ایک لڈو خود بھی اٹھا لیا۔مریدوں نے مزے سے جلدی جلدی سے وہ لڈو کھا لئے۔ختم ہو گئے سارے، ٹوکرا ہی ختم ہو گیا اور ان کے ہاتھ میں وہ لڈو اسی طرح پکڑا ہوا تھا اور وہ ایک ایک دانہ کھا رہے تھے اور کھاتے تھے اور پھر غور میں مبتلا ہو جاتے تھے۔یہ مراد نہیں ہے کہ ہر کھانے والا اسی طرح کھائے مگر بعض دفعہ بعض خاص کیفیتیں تعلق باللہ کی انسان پر اس طرح غالب آ جاتی ہیں کہ اس طرح کھانے میں بھی مزہ آتا ہے۔اور ایک خاص مزہ آتا ہے۔تو ایک شاگرد نے عرض کیا ہم تو لڈو کھا گئے، مزے کئے ، آپ ایک ہی کو پکڑ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔دانہ دانہ کھا رہے ہیں یہ کیا ہو رہا ہے۔تو انہوں نے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں ساتھ ساتھ کہ یہ جولڈو ہے اس میں جو میرا استعمال ہوا تھا۔وہ کیسے بنا تھا ؟ مجھے خیال آتا ہے کہ او ہو ایک کوئی زمیندار کسی جگہ علی السویرے اٹھ کے جبکہ ابھی دنیا آرام کر رہی تھی۔موسم سردی کا تھا یا گرمی کا نکلا۔اور اس نے ایک بل اٹھایا ساتھ اپنے بیلوں کو جوتا اور دیگر آلات لے کر وہ کھیتوں کی طرف روانہ ہوا۔اس نے وہاں محنت کی گندی جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ کر باہر پھینکا اور اس محنت کے وقت اس کو کیا پتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس سے یہ کام کیوں لے رہا ہے اس کو کیا پتہ تھا کہ اس محنت کے پھل کا ایک دانہ میرے منہ میں بھی آئے گا لیکن وہ ایک غفلت کی حالت میں کام کر رہا تھا۔لیکن میں نے سوچا کہ اوہو یہ تو خدا تعالیٰ نے جو تسخیر کائنات کی ہے وہ اس طرح کی ہوئی ہے کہ بے تعلق دور دراز کے لوگ کچھ کام کر رہے ہیں اور انسان کو پتا ہی نہیں کہ دراصل وہ اس کی خدمت کر رہے ہیں۔چنانچہ اس نے محنت کی اور پھر میں نے سوچا کہ او ہو یہ بل تو لکڑی سے بنا ہو گا اور ساتھ اس کے لوہے کا پھل بھی