خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 894
خطبات طاہر جلد ۱۲ 894 خطبہ جمعہ ۱۹/ نومبر ۱۹۹۳ء تو ذکر اللہ کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ذکر اللہ کو ایک انسانی زندگی میں تمام اعمال صالحہ میں ایک غیر معمولی فوقیت حاصل ہے اور اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسرے رنگ میں بیان فرماتا ہے۔عبادت کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ اللہ کا ذکر اَكْبَرُ ہے۔حالانکہ عبادت بھی تو ذکر ہے اور یہ خیال کر لینا کہ عبادت کم تر ہے اور عبادت کے باہر ذکر زیادہ ہے۔یہ اس کا مطلب درست نہیں ہے۔اس کے بہت سے اور بھی معنی ممکن ہیں لیکن اس موقع پر میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں۔کہ وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَر کہہ کے یاد کرایا کہ خالی عبادت کا ظاہر کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔عبادت کرو اور ظاہری طور پر تمام ارکان ادا کرو اور عبادت کا خیال رکھو۔تمام الفاظ جو پڑھے جاتے ہیں وہ پڑھے جائیں، تمام دعا ئیں جو کی جاتی ہیں کی جائیں لیکن اگر ذکر اللہ اس پر غالب نہ رہا تو عبادت میں وہ شان پیدا نہ ہوگی۔پس جب آپ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں تو اس طرح بھی مضمون کو ادا کر سکتے ہیں۔جس طرح ایک قاری کسی مضمون کو پڑھ رہا ہے اور اس کے ذہن میں وہ مطلب آ رہا ہے ساتھ ساتھ اور اس طرح بھی ادا کر سکتے ہیں کہ اس مطلب کے ساتھ ساتھ کہ دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی لہریں دوڑنے لگیں۔دل ان لہروں کے نتیجہ میں یا جھومنے لگیں یا بعض دفعہ تھر تھرانے لگتے ہیں خدا کے رعب سے اور خدا کے عشق سے۔تو اگر دلوں میں تموج پیدا نہیں ہوتا اور آپ نماز پڑھتے چلے جاتے ہیں۔تو وہ نماز یقیناً نسبتا کم درجہ کی ہے لیکن وہ نماز جس پر ذکر اللہ غالب آجائے وہی اکبر ہے وہ سب سے بڑی عبادت ہے۔پس اور معنی ہیں لیکن یہ معانی لازم ہیں اس کے ساتھ اس لئے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ عبادت جو باقاعدہ کی جاتی ہے اس کو چھوڑ دو اس سے بہتر باہر کا ذکر ہے۔اس عبادت کے اندر ذکر الہی نہایت ضروری اس عبادت کو زندہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔اب ذکر کے تعلق میں چند اور باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں پہلے تو میں ابتدائی طور پر جو مختلف اہلِ علم نے ذکر کے متعلق اپنے تصویر پیش کئے ہیں یا صوفیاء اولیاء اللہ نے جن کو ذکر کے تجارب ہوئے انہوں نے اپنے تجربہ کی رو سے ذکر کا ایک مضمون سمجھا ہے۔اہل لغت نے ذکر کے کیا معنی لئے ، کیا کیا معانی سمجھے یہ باتیں میں ابتداء آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پھر انشاء اللہ تعالیٰ آیاتِ قرآنی اور حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کے حوالے سے ذکر کے مضمون کو واضح کرتا چلا جاؤں گا۔