خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 893
خطبات طاہر جلد ۱۲ 893 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء ایک آپ کی توجہ کے لئے میں خصوصیت سے یہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ذکر کا ایک جھوٹا تصور جو مسلمان صوفیاء میں رواج پا گیا۔اس کی یہ آیت نفی کرتی ہے۔بعض صوفیاء یہ سمجھتے ہیں یا سمجھتے رہے مختلف زمانوں میں کہ اللہ کے ذکر کے بعد انسان دوسرے اعمال سے بے نیاز ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بعض صوفی فرقوں میں یہ تصور بھی جگہ پا گیا کہ ذکر اللہ کرو اور نمازوں سے مستثنی ، ذکر اللہ کرو اور بنی نوع انسان کی خدمت سے مستقلی ، ذکر اللہ کو مختلف گوشوں میں چلے جاؤ اور دنیا سے تعلق کاٹ لو یہی ذکر اللہ کا مفہوم ہے۔قرآن کریم نے ان دو آیتوں کو اوپر نیچے رکھ کر ایک خاص ترتیب سے اس مضمون کی کلیۂ نفی فرما دی۔فرمایا ہم جس ذکر اللہ کی بات کر رہے ہیں کہ وہ تَظمین القُلُوبُ عطا کرتا ہے وہی ذکر اعمالِ صالحہ میں ڈھلتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ذکر سچا ہو اور اعمال صالحہ نہ رہیں یا اعمالِ صالحہ سے انسان مستغنی ہو سکے تو تکرار کے ساتھ فرمایا الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَبِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللهِ اور الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ یہ عملاً ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اور ذکر الہی سے ایک مزید بات یہ بیان فرما دی۔اعمالِ صالحہ کا تو ہر جگہ ذکر ملتا ہے قرآن کریم میں ، ایمان کے بعد ذکر کے بعد جب اعمال صالحہ کا ذکر ملا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ذکر اعمالِ صالحہ کو ایک نیا حسن عطا کر دیتے ہیں ذکر کے بغیر جو اعمالِ صالحہ ہیں ان میں وہ جان نہیں پڑتی وہ غیر معمولی حسن پیدا نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں طوبی لھم انہیں کہا جا سکے۔تو یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ تم ایمان لاؤ اور اللہ کا ذکر کرو پھر تمہیں طمانیت نصیب ہوگی اور طمانیت کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر جاؤ۔طمانیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دنیا کی جدو جہد سے آزاد ہو جاؤ گے جہاد سے مستغنی ہو جاؤ گے۔اس کے باوجود تمہیں ضرور جہاد کرنا ہو گا اس کے باوجود تمہیں دنیا کے تمام مشاغل میں حصہ لینا ہو گا لیکن ہر دنیا کے تعلق میں ذکر الہی دلوں پر غالب رہے گا اور جب ذکر الہی غالب رہے گا تو تمہارے اعمالِ صالح کو ایک نیا حسن عطا ہو جائے گا۔ایک نئی شان عطا ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں طوبی لَهُمْ ایک ایسا مرتبہ عطا ہو گا جو سب دوسرے مرتبوں سے ممتاز ہے۔ایک قابلِ رشک حالت عطا ہو جائے گی۔وَحُسْنُ هَابِ اور تم واپس جس ٹھکانے کی طرف لوٹو گے وہ بہت ہی حسین ٹھکانہ ہے۔بہت ہی خوب صورت مقام ہے۔یعنی مرنے کے بعد جس کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔