خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 889
خطبات طاہر جلد ۱۲ 889 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء میں پاؤں لڑکائے بیٹھے اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ جتنا بھی جو بول سکے جو جھوٹ اس آخری حد کو پہنچ چکے ہیں اور بعد کی حد پھر وہ موت ہے۔پھر موت کے بعد پھر جواب طلبیاں ہیں۔تو اس دنیا میں تو جھوٹ کی آخری حدیں چھو چکے ہیں۔ان کی رپورٹیں پڑھ کے بجائے ، شروع میں تو تھوڑا غصہ بھی آتا تھا کہ کیا کر رہے ہیں لیکن اب تو غصے سے گزر کر ہنسی آنے لگ گئی ہے۔وہ بھی بڑے پاگل ہیں جو مان لیتے ہیں ان باتوں کو احمدی سامنے بس رہے ہیں دیکھ رہے ہیں کون لوگ ہیں، منتفی ، خدا پرست، خدا کا خوف رکھنے والے، عبادتوں میں آگے، نیکیوں میں سب سے پیش پیش، ماحول کے نمونہ آنکھوں کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اور مولوی کی بات سن کے کان کی بات مان رہے ہیں اور آنکھ کی بات نہیں مان رہے۔حالانکہ لیس الخبر كالمعاينة (منداحمد: ۱۷۴۵) آنکھ کی دیکھی ہوئی چیز کا خبر کیسے مقابلہ کر سکتی ہے۔مگر جہالت کی باتیں ہیں ساری تو دعا کریں اللہ تعالیٰ ان مصیبتوں، ان جہالتوں کے نتیجہ میں جماعت کو نقصان پہنچانے کی بجائے جماعت کے لئے افزائش کا انتظام فرمادے۔کیونکہ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ جب یہ جھوٹے گندے پروپیگنڈے اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں اور لوگ پھر دوبارہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جن کے متعلق وہ دلوں میں غلط تصورات قائم کر چکے ہوتے ہیں تو اچا نک آنکھ میں بیداری پیدا ہوتی ہے اور گویا جیسے ایک دم انسان جھنجھوڑا جائے تو اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔کہتے ہیں ہاں یہ تو وہی لوگ نہیں ہیں جو ہم سنا کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں پھر زیادہ تیزی سے وہ احمدیت میں داخل ہونے لگتے ہیں۔تو ہندوستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قبولیت کی لہر بھی دوڑ رہی ہے مخالفت کی بھی ہے۔لیکن دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حفاظت میں رکھے اور ان کی ہر کوشش کو ان کی توقع سے بڑھ کر مثمر ثمرات حسنہ فرمائے یعنی پھل دار بنادے۔دوسرا ان کو خطرہ ہے ہند و مسلمان Jealousy یعنی رقابت کا ،مسلمانوں کی طرف سے پیٹھ میں چھراگھونپا جاتا ہے، اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ مسلمان ہی نہیں ہیں ، یہ دنیا کے سب سے گندے لوگ ہیں اور ہندو جانتے ہیں کہ اگر تبلیغ کر کے ہندوستان کو کوئی مسلمان بنا سکتا ہے تو یہ جماعت احمد یہ ہے اس لئے اللہ کا اتنا فضل تو ہے کہ ہندو ناجائز بہانہ بنا کر ابھی تک حملہ آور نہیں ہو رہے۔الا ما شاء اللہ ، کہیں کہیں بعض دفعہ کوشش ہوئی اور نہ اتنی انہوں نے شرافت ضرور دکھائی ہے کہ جب تک کوئی قطعی عذر ان کے ہاتھ نہ آئے اس وقت تک وہ نفرت پھیلانے کی کوشش نہیں کرتے