خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد ۱۲ 85 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء جب بڑے اجتماعات ہوں تو وہاں جھولیاں پھیلا دی جاتی ہیں اور چادریں بچھا دی جاتی ہیں لوگ بڑھ بڑھ کر جوش و خروش سے ان چادروں پر دولتیں نچھاور کرتے ہیں۔یہی طریقہ ہے جو جاری رہ سکتا ہے اور ہمارے مزاج کے مطابق ہے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کا ایک افریقن مزاج ہے اور دینی مزاج ہے۔افریقن مزاج پاکستانی مزاج سے مختلف ہوگا لیکن دینی مزاج مختلف نہیں ہو سکتے اور ہم جو چندے دیتے ہیں وہ دینی مزاج کے مطابق دیتے ہیں اور جو عالمی نظام جاری کرنا چاہتے ہیں وہ دینی مزاج کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اگر قومی اور ملکی مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے نیکی کی تحریکات چلائی جائیں تو ساری دنیا کی جماعتیں پھر دوبارہ بٹ کر اسی طرح الگ الگ ہو جائیں جس طرح مذاہب میں پہلے تفرقے پڑتے چلے گئے ہیں اور فرقے وجود میں آتے رہے ایک جگہ کے احمدی کی روحانی شکل اور بن جائے گی اور دوسری جگہ کے احمدی کی روحانی شکل اور بن جائے گی اس لئے ان کے سب خوف و ہراس کے باوجود میں متاثر نہیں ہوا بلکہ ایک ملک میں تو میں نے مجبور کر کے حکماً یہ نظام اس عہد کے ساتھ جاری کروایا کہ تمہاری جتنی کمی ہوگی وہ میں پوری کروں گا لیکن ساری دنیا کے احمدی کی ایک ہی شکل بننی چاہئے ایک ہی صورت ظاہر ہونی چاہئے خدا کے بندے خدا کے حضور ایک قوم کی صورت میں ابھریں جو محد رسول اللہ ﷺ کی قوم ہو ، ایک ملت کی شکل میں آئیں جو اسلام کی ملت ہو اور روحانی مزاج کے لحاظ سے اور روحانی آداب کے لحاظ سے روحانی اداؤں کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق دکھائی نہ دے یہی مقصد میرے پیش نظر تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور جہاں جہاں یہ تجربے ہوئے پہلے سال میں ہی خدا کے فضل سے ان کی توقعات سے بہت بڑھ کر آمد میں شروع ہوئیں اور اب دوسرے دور میں میں نے یہ توجہ دلانی شروع کی کہ فرد فرداہر گاؤں کی الگ الگ فہرستیں تیار ہوں اور ہر قسم کے چندوں کے نام لکھ کر ان کے آگے چندہ دہندہ کا چندہ لکھا جائے اور یہ نظام ہندوستان، پاکستان میں جس طرح رفتہ رفتہ عروج پذیر ہوا ہے ، رفتہ رفتہ ترقی پذیر ہوا ہے اس کے مطابق ساری دنیا کے احمدی اسی ایک رنگ میں رنگین ہو کر مالی قربانی کریں تو اس کے بھی خدا کے فضل سے اچھے نتائج نکلنے شروع ہوئے ہیں۔افریقہ سے ابھی پچھلے چند دنوں کی رپورٹوں میں اطلاع ملی ہے کہ جب ہم نے گاؤں گاؤں میں فہرستیں بنا کر رجسٹر تیار کروا کر چندے لینے کی مہم چلائی تو دیکھتے دیکھتے چندہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ کے