خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 878
خطبات طاہر جلد ۱۲ 878 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء پس نصیحت کے اس انداز کا فقدان اعتراض ہے اور بعض لوگ جماعت میں نیکی کے نام پر گویا اپنی ذات کو یہ کریڈٹ دے رہے ہوتے ہیں، خود یہ سہرا اپنے سر پر لگا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو ہم ناصح ہیں۔ہمیں تو یہ باتیں پسند نہیں اور کہتے اس انداز سے ہیں کہ ان کی انا کو تو خراج تحسین ہو جاتا ہے۔لیکن جس کو کہی جاتی ہے اس کو بات فائدہ نہیں پہنچاتی ، اس کا غلط ردعمل پیدا ہو جاتا ہے۔پس اگر ایسے مواقع ہیں جہاں اس قسم کی نا واجب حرکتیں ہو رہی ہیں۔تو اسلامی تعلیم کے مطابق کام کریں۔اسلامی تعلیم کے مطابق وہ خاندان کے بڑے جن کے اختیار میں یہ ہے کہ وہ ان باتوں کو روک دیں ان کا فرض ہے کہ وہ ان باتوں کو روکیں کیونکہ گھر کے بڑے کہیں کہ اگر ایسی حرکت ہوگی تو ہم شامل نہیں ہوں گے۔اگر یہ ایسا کہیں تو ان کی بات کا ضرور اثر ہوتا ہے۔روک دینے سے مراد یہ ہے کہ اگر تم میں روکنے کی طاقت ہے سہی طریق پر تو روکو اور جن لوگوں نے نہیں روکا وہ با قاعدہ مجرم بن جاتے ہیں اور اگر روکنے کی طاقت نہیں تو زبان سے سمجھاؤ اور زبان کے سمجھانے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا طعن آمیزی کا رنگ نہیں ہونا چاہئے۔جہاں طعن آیا وہاں بات اثر چھوڑ دے گی۔نصیحت اور پر درد نصیحت کے ذریعے ان کو سمجھا ئیں اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو پھر دل میں برا مناؤ۔دل میں برا منانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دل کے اندر ہی بر امنا کر محسوس کر کے بیٹھ جاؤ۔اس برا منانے کا کوئی اثر ضرور ظاہر ہونا چاہئے۔چنانچہ قرآن کریم نے ایسی مجالس جن میں بدذ کر چل رہے ہوں ان میں برا منانے کا ایک طریقہ خود سکھا دیا ہے۔فرمایا جب تک ایسی باتیں ہیں ان سے اٹھ کے آجاؤ۔پس ایسی شادیاں ہو رہی ہوں جہاں بے حیائیاں ہو رہی ہوں اور بعض دفعہ تو یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اس بہانے کہ لڑکیاں ہی ہیں ناچ کئے گئے ہیں اور اس بہانے کہ صرف گھر کے لوگ ہیں تو دولہا میاں نے بھی بیوی کے ساتھ مل کے وہاں ڈانس کئے۔یہ شاذ کے طور پر واقعات ہیں۔لیکن نہایت ہی خطرناک دروازے کھولے جا رہے ہیں۔اگر یہ دروازے بند نہ ہوئے اور آئندہ یہ باتیں رواج پا گئیں تو جنہوں نے یہ دروازے کھولے ہیں ان پر آنے والی نسلوں کی بھی لعنتیں پڑیں گی۔اور وہ خدا کے نزدیک ذمہ دار قرار دیئے جائیں گے۔یہ کوئی بہانہ نہیں ہے کہ اور نہیں ہیں ہم ہی ہیں۔ہمارے سامنے کیا ہو رہا ہے۔اصل میں یہ باتیں اس بات کی مظہر ہیں کہ دل میں غیر اللہ کا رعب پڑچکا ہے۔وہ بعض باتیں غیر سوسائٹیوں میں دیکھتے ہیں اور بڑا سخت دل چاہ رہا ہوتا ہے کہ ہم بھی ایسا کریں