خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 873 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 873

خطبات طاہر جلد ۱۲ 873 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء پس اس نصیحت کے بعد میں لجنہ اماءاللہ بہار کی درخواست کی طرف اور بہار اور اس کے علاوہ آندھرا پر دیش کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ اس موقعے پر ہمیں بھی کوئی نصیحت فرمائی جائے۔لجنہ کو جو میری نصیحت ہے اس کا دراصل تنبل ہی سے ایک تعلق ہے کیونکہ تل کا مضمون اگر اس کو گہری نظر سے دیکھیں تو ہر بری عادت ہر غلط چیز سے تعلق توڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجحان کا مضمون ہے اور یہ ایسا مضمون ہے جو زندگی کے ہر دائرے پر محیط ہے۔خواتین کی تربیت کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ بعض بدیاں جو رفتہ رفتہ خواتین میں راہ پا جاتیں ہیں۔ان کی طرف متوجہ کروں اور یہ ایسی بدیاں ہیں جو بار بار نکال دینے کے باوجود پھر واپس داخل ہو جاتی ہیں۔ایسا ہی ہے جیسے کسی کو کان پکڑ کر بار بار اٹھایا جائے کہ چھوڑ واس مجلس سے تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔تو پھر کسی دوسرے رستے سے آ کر وہیں بیٹھ جائے۔پس بعض بدیاں ہیں جو نفسیاتی لحاظ سے بعض ایسے رخنوں سے داخل ہو جاتی ہیں۔جہاں انسانی نفس عملاً ان کو بلاتا ہے اور دعوت دیتا ہے۔پس ایک طرف سے ایک نکالنے والا اعلان کرتا ہے کہ نکلو نکلو یہ جگہ چھوڑ تمہارا یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں۔دوسری طرف سے تمام نفسوس کے اندر ایک آواز دینے والا پیدا ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے تمہیں نکالا جاتا تھا لیکن مستقل تو نہ پیچھا چھوڑ دو، کبھی کبھی آ بھی جایا کرو، آؤ مل بیٹھتے ہیں۔کچھ لطف اٹھاتے ہیں۔یہ جو بدیاں ہیں ان میں رسم و رواج کی بدیاں ہیں ، ان بدیوں میں بے پردگی کا رجحان ہے۔ان بدیوں میں سماج سے متاثر ہو کر بعض حرکتوں میں ملوث ہونے کی عادتیں ہیں۔یہ تمام وہ بدیاں ہیں جو بار بار احمدی خواتین میں داخل ہونے کی کوشش کرتیں ہیں اور بار باران کو باہر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پھر کچھ دیر کے بعد جب خواتین سمجھتی ہیں کہ یہ بات پرانی ہوگئی۔تو پھر ان کو دعوت دیتیں ہیں کہ آجاؤ اب کافی جدائی ہو گئی ، اب پھر کچھ دریل بیٹھتے ہیں۔تو اب مجھے پھر اطلاعیں ایسی مل رہی ہیں کہ بعض بدیاں بڑے زور کے ساتھ دوبارہ احمدی خواتین کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت کی تقریبات میں داخل ہو رہی ہیں۔سب سے پہلے پردے سے متعلق میں بات کرنا چاہتا ہوں کہ رفتہ رفتہ وہ پردہ جو برقعے سے چا در بنا تھا اب وہ ایسی چادر بن گیا ہے جو سر سے سرک کر کندھوں پر آ گئی ہے اور کندھوں سے بھی سرکتی جارہی ہے اور بعض دفعہ پھر کہتے ہیں کہ جب خالی چادر ہی اٹھانی ہے تو پھر کیا فائدہ پھینکو اس کو۔