خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 868
خطبات طاہر جلد ۱۲ 868 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ء الله عروسة کے باوجود چونکہ تو خدا کے سامنے جواب دہ ہے اس لئے جب تو فیصلہ کرتا ہے تو اپنی فراست پر ، اپنی ذہانت پر، اپنی عقل مندی پر انحصار بالکل نہیں کرنا ۔ اللہ پر توکل کرنا ہے۔ اللہ پر توکل کے نتیجے میں اس فیصلے کو دو طرح سے برکت حاصل ہو جاتی ہے اور حفاظت مل جاتی ہے آخر انسان انسان ہے ہو سکتا ہے بعض حالات میں بعض مشوروں کے اثر کے نیچے ایک ایسا فیصلہ بھی کرلے جو بعینہ درست نہ ہو کیونکہ بعض دفعہ ایسے امور حقائق کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں جو فی الواقعہ حقیقت نہیں ہوتے اور اس میں غلطی مشورہ دینے والوں کی انہوں نے بغیر چھان بین بعض واقعات پیش کر دیئے۔ فیصلہ کرنے والا ان واقعات کو نظر انداز کر کے فیصلہ نہیں کر سکتا اور اگر غلط واقعات پیش ہوں گے تو پھر بعض دفعہ فیصلے بھی اسی حد تک غلط ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک موقع پر یہ تنبیہ فرمائی کہ جب آپس میں تم لوگوں کے اختلافات ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی فریق اپنی چرب زبانی کے نتیجے میں اپنے معاملے کو اس طرح پیش کرے کہ حق کو چھپا دے۔ جو مجھے دکھائی دے گا میں اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ اس صورت میں ہو سکتا ہے یعنی بہت بعید کی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ واقعہ ہوا کبھی نہیں مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے انکسار کی وجہ سے امت کو سمجھانے کی خاطر یہ بتایا ہے کہ اگر مجھ سے ہو سکتا ہے تو تم سے یقیناً ہو سکتا ہے۔ فرمایا ہو سکتا ہے کہ میں اس اثر کے نتیجے میں غلط باتیں میرے سامنے کی گئی ہیں اور اس رنگ میں کی گئی ہیں کہ میں ان کو سچ تسلیم کر بیٹھا ہوں کسی کا حق کسی اور کو دے دوں ۔ فرمایا ایسی صورت میں جس کو وہ حق دیا گیا ہے وہ یاد رکھے کہ حق کے طور پر نہیں دیا گیا وہ ایک جہنم کا ٹکڑا ہے جسے وہ کھائے گا۔ اس میں بھی بہت ہی گہری حکمت ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ تم اس فیصلے کے پابند نہیں رہے۔ خود فرمارہے ہیں ممکن ہے کسی شخص کے جھوٹے بیان کی وجہ سے ایسے حالات میرے سامنے رکھ دیئے جائیں کہ میں ایک فیصلہ کرتے ہوئے کسی کا حق کسی اور کے سپرد کر دوں ۔ فرمایا یہ بعید از امکان نہیں ہے مگر ایسا کروں تو یہ نہیں فرمایا کہ پھر جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ چونکہ جانتا ہے کہ اس کا حق ہے وہ بغاوت کر دے اور کہے کہ نہیں میں یہ حق نہیں چھوڑوں گا۔ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نعوذ باللہ من ذالک غلطی کی ہو۔ دوسرے کے متعلق بھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا فیصلہ غلط ہوگا ۔ یہ فرمایا ہے کہ تم حق لے لو گے تو جہنم لو گے اور اس طرح عالم انصاف کو فساد سے بھی بچالیا اور دور کے غلطی کے احتمال کا ایک تو ڑ بھی اس فیصلے میں رکھ