خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 867 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 867

خطبات طاہر جلد ۱۲ 867 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء دیا لیکن یہ فرمایا کہ مشورہ کر لیکن پھر فیصلہ خود کرنا ہے۔پس مشورہ اپنی جگہ ضروری ہے اور اس کی بہت سی حکمتیں ہیں یعنی صرف یہ حکمت نہیں ہے کہ بعض پہلوؤں پر انسان کی نظر نہیں ہوتی ،مشورے کے دوران وہ پہلو سامنے آجاتے ہیں۔پہلوؤں پر نظر نہ ہونا، عقل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا دنیا کے حالات میں ہر چیز پر صرف خدا کی نظر ہے اور کوئی شخص کتنے ہی بڑے مقام سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو وہ عالم الغیب نہیں ہے پس مشورے میں بہتر عقل کی بات کی احتیاج کا ذکر نہیں ہے یہاں۔اس لئے حکم نہیں دیا گیا آنحضور ﷺ کو ، ہو سکتا ہے کہ نعوذ باللہ تجھ سے زیادہ عقل والا انسان کوئی اچھی بات تیرے سامنے پیش کر دے۔مراد صرف یہ ہے کہ تو عالم الغیب نہیں ہے اور بہت سے لوگوں کے علم میں باتیں ہیں۔ساری باتیں تیرے علم میں آجائیں پھر فیصلے کا بہتر مجاز تو ہے یعنی آپ کی عقلی برتری کو بھی بڑے واضح الفاظ میں بیان فرما دیا اور بشری کیفیت کو بھی واضح طور پر بیان فرما دیا۔مشورہ اس لئے ضروری نہیں ہے کہ تجھ سے زیادہ روشن خیال لوگ موجود ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بہت سی باتیں ان کے علم میں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ تیرے علم میں نہ ہوں۔جب سب باتیں سامنے آجائیں پھر صحیح فیصلہ ہوا کرتا ہے۔جب فیصلے کا مقام آئے گا تو تو نے فیصلہ کرنا ہے۔مشورہ لے قبول کر یا نہ کر یہ تیرا کام ہے۔پس یہ ہے شوری کی روح اور نظام جماعت میں یہی سلسلہ خلافت کے حوالے سے اسی طرح جاری ہے یعنی ہر خلیفہ وقت کو جماعت احمد یہ مشورہ دیتی ہے اور جماعت سے خلیفہ وقت مشورے لیتا ہے۔لیکن آخری فیصلہ خلیفہ وقت خود کرتا ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی نیابت میں اس مقام پر ہے جہاں خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی فراست کو اتنا نورضرور عطا کر دیتا ہے کہ ہر دوسرے شخص سے بہتر فیصلہ کرنے کا مجاز ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے علم میں ساری باتیں آنی ضروری ہیں۔جب علم میں سب باتیں آ جاتی ہیں تو پھر وہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ درست صلى الله نکلتا ہے اور اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اللہ ضامن ہے وہ فیصلوں کو خود درست کروالیتا ہے۔یہ دوسرا مضمون جو ہے یہ تو کل الی اللہ میں بیان ہوا ہے۔فرمایا فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ جب تو کسی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے تو اپنی ذات اور اپنی فراست پر تو کل نہیں کرنا۔اللہ جانتا ہے کہ تو بہت صاحب فراست ہے۔تجھ جیسا نور خدا تعالیٰ نے کسی اور کو عطا نہیں کیا لیکن اس