خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 864 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 864

خطبات طاہر جلد ۱۲ 864 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء کے علاوہ عرفان الہی اور بعض دیگر تقریروں میں مثلاً تربیت الہی وغیرہ کو کثرت سے شائع کرنا چاہئے تا کہ ہماری آج کی نسلیں بھی ان علوم اور عرفان کی باتوں سے فیض یافتہ ہوں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دور میں بکثرت ہر خطبے پر بھی اور جلسے کے دنوں میں خصوصیت کے ساتھ عام بانٹے جایا کرتے تھے۔ایک لنگر کھلا ہوا تھا علم و عرفان کا ماشاء اللہ جس سے جماعت کی کئی نسلوں نے تربیت پائی ہے کیونکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خلافت کا دور باون سالہ دور ہے۔باون سال کے اندر جب یہ خلافت کا آغاز ہوا ہے تو بیک وقت تین نسلیں تو آپ کی مخاطب تھیں انصار بھی ، خدام بھی ، اطفال بھی۔اس باون سالہ دور میں کئی پلٹے کھائے ہیں ان نسلوں نے اور جو طفل اس دن پیدا ہوا تھا جس دن آپ خلیفہ بنے ہیں اس کی عمر وصال کے وقت باون سال کی تھی لیکن ہر طفل اس عمر کا تو نہیں تھا اس لئے دو تین نسلیں ایسی ہیں جو آپ کی تربیت کے نیچے گزر گئیں اور اس طرح بہت سے تربیت کے امور میں ان کو استحکام نصیب ہوا ہے بوڑھے پیچھے جو ان چھوڑ گئے ، جوانوں نے بچوں کو جگہ دی اور بچے پیدا ہوئے۔وہ بھی جوان ہوئے۔بوڑھے ہونے والے بچوں نے کچھ بچے پیدا کئے ہوں گے جو جوان ہوئے ، بڑھاپے کی طرف مائل ہوئے دو تین نسلیں ہیں جو فیض یافتہ تھیں۔اس دور کے خطبات کو اور اس دور کی تقاریر کو جماعت کے سامنے بار بارلانا چاہئے۔ذکر اللہ کے مضمون پر وہ تقریر ایک بہت ہی غیر معمولی اہمیت کی حامل تقریر ہے۔اسے جماعت کو کثرت سے پڑھنا چاہئے۔میں یہ کوشش کروں گا کہ اس انداز کے علاوہ دوسرے انداز سے ذکر اللہ کے مضمون پر روشنی ڈالوں۔چند باتیں دہرائی بھی جائیں گی۔لیکن انداز الگ الگ ہوتے ہیں۔میں نے جو طریق اپنے سامنے رکھا ہے وہ یہ ہے کہ آیات قرآنی میں جہاں جہاں ذکر کا مضمون ملتا ہے اس کے حوالے سے جماعت کو نصیحت کروں اور جہاں تک بس چلے یہ سمجھاتا چلا جاؤں کہ قرآن کریم میں ہر تکرار میں کوئی نہ کوئی نیا مضمون ضرور داخل فرمایا جاتا ہے اور جس سیاق وسباق میں قرآن کریم کوئی ایک بات پیش فرماتا ہے اسی سیاق و سباق میں بھی جب وہی بات پھر دوبارہ پیش فرماتا ہے تو آیات کے مطالعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ محض وہی مضمون نہیں بلکہ کسی اور حکمت کے پیش نظر اسی بات کو دوہرایا جارہا ہے لیکن جہاں سیاق و سباق بدل جائیں وہاں بہت سے نئے مضامین پیدا ہوتے ہیں۔پس ذکر کے موضوع پر جب میں نے آیات کا مطالعہ کیا تو ایک بہت