خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 862 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 862

خطبات طاہر جلد ۱۲ 862 خطبه جمعه ۵ / نومبر ۱۹۹۳ء ہے ان کے حق میں تو ان سب چندہ دہندگان کی جزا لکھ دی جاتی ہے جو ان کی تحریک سے چندے ادا کرتے ہیں۔پس ایک سیکرٹری مال اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھے کہ مجھے دھکے کھانے پڑتے ہیں ، جگہ جگہ دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔دن رات مصیبت پڑتی ہے اور پھر لوگ آگے سے باتیں کرتے ہیں۔ان کو یا درکھنا چاہئے کہ ان کی جزا بھی تو بہت زیادہ ہے۔جتنے لوگ ان کی تحریکات کو سن کر محض رضائے باری تعالیٰ کی خاطر انفاق کرتے ہیں۔خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان سب کا چندہ ان کے لئے بھی جزا بن جاتی ہے جن کی تحریک پر دیا جاتا ہے اور دینے والے کی جزا کم نہیں کی جاتی۔وَانْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ کا ایک یہ بھی مفہوم ہے۔کسی کی جزا بھی کم نہیں کی جائے گی۔دینے والے کو توقع سے بھی بہت بڑھ کر دیا جائے گا اور تحریک کرنے والے کو بھی اس سب ثواب میں شریک کر دیا جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ ہمارے مالی نظام کو اسی طرح پاک اور شفاف رکھے۔ہمیشہ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر خرچ کریں اور اللہ کی طرف سے فضل کے طور پر جو وعدے ہیں وہ ہم پر اسی طرح نازل ہوتے رہیں۔ہم سے پہلوں نے جو خرچ کئے تھے ان کا پھل ہم کھا رہے ہیں اور مالی لحاظ سے وہ خاندان جن کے آباء و اجداد نے قربانیاں دی تھیں کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں۔پس یا درکھیں کہ آج جو خرچ کریں گے کل ان کی نسلیں بھی اسی طرح خدا کے فضلوں کی وارث بنائی جائیں گی مگر خدا کے لئے اس خاطر نہ کریں۔محض رضائے باری تعالیٰ کی خاطر خرچ کریں۔اسی میں ساری برکتیں ہیں اور یہی سب سے بڑی جزا ہے۔