خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 858 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 858

خطبات طاہر جلد ۱۲ 858 خطبه جمعه ۵ / نومبر ۱۹۹۳ء یہ ہے کہ اللہ کو پتا ہے۔کوئی قربانی کسی اندھیرے میں کسی وقت رات کو دنیا کی نظر سے الگ ہو کر ، چھپ کر تم خدا کی راہ میں کرتے ہو اور کرتے خدا کی خاطر ہو تو اسے پتا لگ گیا ہے تمہیں پھر اور کیا چاہئے۔پس چندہ دینے والے کے لئے سب سے بڑی جزاء اللہ کی رضا ہے جو اس کے علم سے حاصل ہوتی ہے۔فرمایا وہ تو اللہ جانتا ہے وَ مَا لِلظَّلِمِینَ مِنْ أَنْصَارٍ لیکن جو لوگ ظلم کرنے والے ہیں ان کے لئے کوئی مددگار نہیں۔اب یہ بھی ٹھہر کر غور کرنے والی بات ہے۔یہاں ظلم کرنے والے اور مددگار کا کیا تعلق تھا ؟ بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں چندہ دینے سے ڈرتے ہیں وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں اور بظاہر اپنا پیسہ بچارہے ہیں لیکن کسی مشکل اور کسی مصیبت کے وقت کوئی ان کے کام نہیں آئے گا لیکن جو خدا کی خاطر خرچ کرنے سے ڈرتے نہیں ہیں اور اپنی جانوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ اپنی جانوں پر رحم کرتے ہوئے خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں ان کو ضرور انصار مہیا ہوں گے۔پس یہ ایک خوشخبری ہے جو بظا ہر نفی کے رنگ میں بیان فرمائی گئی ہے۔مطلب ہے کہ وہ لوگ جو ظلم کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو پھر خدا کی طرف سے کوئی مددگار نصیب نہیں ہو گا۔لیکن تم جو کرتے ہو اس کی ایک جز تو یہ بیان کر دی گئی کہ اللہ جانتا ہے۔وہ تمہیں پیار سے دیکھ رہا ہے۔دوسرے اس کی یہ جزا بیان کر دی گئی کہ جب بھی تم مشکل میں پڑو گے۔جب بھی کوئی مصیبت واقع ہوگی یا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہوگی تو اللہ جو جانتا ہے کہ تم نے اس کی خاطر قربانیاں دی تھیں وہ تمہارے لئے انصار پیدا فرمائے گا۔ایسے انصار بھی بعض دفعہ مقرر ہو جاتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ جن پر خدا الہام کرتا ہے وحی کے ذریعہ ان کو بتاتا ہے کہ فلاں کو ایک مدد کی ضرورت ہے۔چنانچہ آج بھی میں دیکھتا ہوں کہ کئی دفعہ کسی ضرورت مند کے لئے جو کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا اللہ تعالیٰ رویا میں کسی کو ہدایت فرماتا ہے کہ اس کو ایک چیز کی ضرورت ہے اور بعض دفعہ پھر مجھے وہ خطوط پہنچتے ہیں کہ ایک شخص ایسی رؤیا دیکھتا ہے کہ فلاں شخص کو فلاں چیز کی ضرورت ہے اور واقعہ وہ ضرورت مند ہوتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ اس کی ضرورت کو پورا کرنے کا سامان فرما دیتا ہے تو انصار کا مضمون جو ہے وہ محض اتفاقاً دنیا میں مددگار کا مضمون نہیں ہے بلکہ ایسے مدد گار کا مضمون بیان ہو