خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 854 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 854

خطبات طاہر جلد ۱۲ 854 خطبه جمعه ۵ نومبر ۱۹۹۳ء چندے دینے والے ملکوں کا ذکر ہوا ہے تو اس میں افریقہ کا قصور نہیں لیکن مالی قربانی کی طرف توجہ کا جہاں تک تعلق ہے اس کا اندازہ آپ کو اس بات سے ہو جائے گا کہ اپنی قربانی میں فی صد اضافہ کرنے کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے آگے زیمبیا ہے جو افریقہ کا ملک ہے اور تیسرے نمبر پر غانا ہے، یہ بھی افریقہ کا ملک ہے، پھر ساتویں نمبر پر گیمبیا آتا ہے اور دسویں نمبر پر تنزانیہ۔پس وہ پہلی دس جماعتیں جنہوں نے سال گزشتہ میں جو اب ختم ہو رہا ہے، اپنے پچھلے چندے سے غیر معمولی اضافے کے ساتھ حصہ لیا تھا ان میں چار افریقن ممالک کو خدا کے فضل سے جگہ ملی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس امتیاز کو وہ آئندہ بھی قائم رکھیں گے اور باقی افریقن ممالک جن کا ذکر نہیں ملا وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ کے فضل کے ساتھ کم سے کم تناسب کے لحاظ سے آگے بڑھنے کی فہرستوں میں شامل ہو جائیں گے۔میں یہاں دعا کا یہ اعلان بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ افریقہ کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لئے حسب توفیق کوشش کر رہی ہے اور مختلف قسم کی ایسی سکیمیں جاری ہیں جن کے ذریعہ افریقہ کی اقتصادی حالت کو اس نقطہ نگاہ سے بہتر بنایا جا رہا ہے کہ وہاں کا پیسہ وہاں سے نکل کر باہر نہ جائے بلکہ باہر سے پیسہ وہاں خرچ ہو اور پھر وہیں استعمال ہو اور جو کچھ منافعے ملیں ان کو دوبارہ افریقہ کی بہبود کے لئے ہی استعمال کیا جائے۔جب میں افریقہ کے دورہ پر گیا تھا تو میں نے جماعت کی طرف سے ان سے یہ وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ میں جماعت عالمگیر کی طرف سے آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ دور جو آپ کے خون چوسنے کا دور تھا جماعت احمد یہ اس کا رخ پلٹے گی اور کم سے کم ایک عالمگیر جماعت ضرور ایسی پیدا ہو چکی ہے جو آپ کی خدمت کے لئے آگے آرہی ہے اور جو باہر سے پیسہ افریقہ میں بھیجے گی بجائے اس کے کہ افریقہ کا پیسہ نکال کر باہر بھجوائے تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پہلے سے بڑھ کر ان کی اقتصادی حالت کو بھی بہتر بنانے کی توفیق ملے، ہزار لاکھ دوسرے ایسے ذرائع ہیں جن تک ہماری دسترس نہیں ، ہم پہنچ ہی نہیں سکتے انہیں خدا تعالیٰ اپنے فضل سے افریقہ کے لئے مسخر فرما دے اور ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ان کی اقتصادی حالت کو بہتر کر دے۔اب میں ان آیات کا ترجمہ کرتا ہوں جن کی میں نے تلاوت کی تھی کیونکہ اس میں مالی قربانیوں کا فلسفہ بیان ہوا ہے اور مالی قربانیوں سے متعلق نصیحتیں فرمائی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔