خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 855
خطبات طاہر جلد ۱۲ 855 خطبه جمعه ۵ / نومبر ۱۹۹۳ء الشَّيْطَنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ يَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ۚ وَاللهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلاً کہ دیکھو! شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے اور فحشاء کا حکم دیتا ہے۔ان دو چیزوں کا کیا تعلق ہے پہلے اس پر غور فرمائیں۔جب حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا تو ایک طرف یہ اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی خاطر مالی قربانی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لو۔ساری دنیا میں تبلیغ کا جال پھیلانا مقصود ہے اس لئے تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو اور ساتھ ہی فرمایا کہ ہر قسم کی فحشاء سے بچو، دنیا کے ہر قسم کے عیش و طرب کے سامانوں سے احتراز کرنے کی کوشش کرو۔یہاں تک کہ جو تم پر جائز ہے اس میں بھی محض اس حد تک حصہ لو جتنا بہت ضروری ہو۔حلال کو حرام تو نہیں فرمایا لیکن فرمایا کہ حلال سے پورا استفادہ نہ کرو کیونکہ تمہیں خدا کی خاطر روپے کی ضرورت ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جو قو میں فحشاء میں مبتلا ہوں ان سے مالی قربانی کی تو فیق چھین لی جاتی ہے۔فحشاء کا مطلب ہے دنیا کی لذتوں میں حصہ لینے کی دوڑ میں انسان ایسی بدرسمیں اختیار کر جائے جو پھیلنا شروع ہو جائیں جو وبائی رنگ اختیار کر لیں اور کھلم کھلا بدیوں کی دوڑ شروع ہو جائے۔اب آپ دیکھیں کہ جہاں کھلم کھلا بدیوں کی دوڑ ہو وہاں الا ماشاء اللہ ہمیشہ انسان کی کمائی اس کی ضرورتیں پوری کرنے سے پیچھے رہ جاتی ہے۔دل چاہتا ہے کہ میں اس ماڈل کی کارلوں، دل چاہتا ہے کہ میں اس قسم کے نئے وڈیوز خریدوں۔اس قسم کے عیش و عشرت میں حصہ لوں اور ایسی ایسی سیر میں کروں وغیرہ وغیرہ۔اور شراب و کباب اور ناچ گانے کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔جتنا بھی زیادہ ہو اتنا ہی یہ لوگ اس میں مزید مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔تو جن قوموں کو یہ لتیں پڑ جائیں اور ان کے ہاں ان باتوں کو زیادہ اہمیت دی جائے ان کے بجٹ ہمیشہ ان کی ضرورت سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔پھر وہاں چوری چکاری ہوتی ہے، ڈاکے ڈالے جاتے ہیں۔Drug Addiction کے ذریعہ Crime بڑھتے ہیں اور ساری سوسائٹی دکھوں میں مبتلا رہتی ہے۔قرض لے لے کر اپنا مستقبل تباہ کرتے ہیں اور اپنے حال کو اچھا بنانے کے لئے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے ایک فقرے کے اندر بیان فرمایا ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے لیکن فحشاء کی دعوت دیتا ہے۔کتنی بڑی منافقت