خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 836
خطبات طاہر جلد ۱۲ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 836 خطبه جمعه ۲۹ را کتوبر ۱۹۹۳ء یقیناً میری مثال ایک ایسے شخص کی مثال ہے جس نے محبت کو ہر چیز پر چن لیا ہو اور خدا کی طرف پورا جھک گیا ہو اور قرب کے میدانوں میں سعی کرتا ہو ( یعنی خدا تعالیٰ جہاں جہاں ملتا ہے وہاں کوشش کر کے تیزی سے قدم اٹھا رہا ہو ) اور اس کے ملنے کے لئے وطن سے دوری اختیار کی ہو اور وطن کی مٹی کو اور ہم عمروں کی صحبت کو چھوڑ اہو اور اپنے محبوب کے شہر کا قصد کیا ہو اور چلا ہو۔66 کیسی پیاری تفسیر ہے تبتل الی اللہ کی۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی وطن میں رہتے تھے جہاں پیدا ہوئے انہی لوگوں میں پرورش یافتہ تھے۔جن کے ساتھ آپ نے عمر گزاری اور ظاہری طور پر ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑ امگر آپ کا دل گواہ تھا اور اس عبارت کا ایک ایک لفظ گواہ ہے کہ آپ سچے ہیں کہ بارہا خدا کی خاطر ان سب چیزوں کو خیر آباد کہنا پڑا ہے۔ان سے رخصت ہونا پڑا ہے کیونکہ دل ہمیشہ اللہ کی طرف مائل رہا۔جہاں ان چیزوں کا قرب خدا سے دور کرنے کا موجب بن سکتا تھا وہاں ہر دفعہ آپ نے نیت میں ان چیزوں کو چھوڑ دیا اور خدا کی طرف مائل ہو گئے۔یہ وہ تل کا سفر ہے جو زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتا ہے اور اسی کے نتیجے میں پھر دراصل وہ توحید کا نور حاصل ہوتا ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا حال بچپن سے یہی تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ تنجل یافتہ تھے۔آپ کی فطرت میں تبتل الی اللہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب نے علاقہ کے ایک سکھ زمیندار کو ایک دفعہ یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آج کل ایسا بڑا افسر برسراقتدار ہے جس کے ساتھ میرے تعلقات ہیں پس اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں تمہاری مرضی کی بہت اعلی نوکری دلوا سکتا ہوں۔یہ وہ سکھ دوست جو ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تلاش میں گئے اور آخر ان کو ڈھونڈ کر یہ پیغام دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ جواب دیا۔حضرت والد صاحب سے عرض کر دیں کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا۔(سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ ۴۳۰)