خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 835 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 835

خطبات طاہر جلد ۱۲ علیها 835 خطبه جمعه ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء السلام تنبل کے مضمون کو ہجرت کے طور پر بیان فرماتے ہیں اور حقیقت میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے تجبل کو ہجرت کے رنگ میں ہی ایک اور موقع پر بیان فرمایا ہے۔آنحضرت اللہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں۔انما الاعمال بالنية وانما لامرى مانوی فمن كانت هجرته الى الله و رسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته الى ما هاجر اليه ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر ۲، مسلم کتاب الاماره حدیث نمبر ۳۵۳۰) اس میں آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ دیکھو اعمال کی بنیاد نیتوں پر ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف دوسروں سے قطع تعلق کر کے چلنا یہی حقیقی ہجرت ہے اور اس حقیقت کا آغاز نیت سے ہوگا۔ور نہ تمہاری تمام حرکتیں خدا کی طرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہوں گی۔تم سمجھ رہے ہو گے کہ تم خدا کی طرف جارہے ہو لیکن فی الحقیقت کسی اور وجود کی طرف چل رہے ہو گے۔اتنی عظیم الشان حدیث ہے کہ زندگی کے ہر عمل پر اور عمل سے پہلے ہر نیت پر یہ نگران بن گئی ہے اور ہماری کمزوریوں کی طرف اشارہ فرمارہی ہے اور متنبہ کر رہی ہے کہ کن کن باتوں میں تمہیں توجہ کے ساتھ غور وفکر کے ساتھ اپنی نیتوں کا تجزیہ کرنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ تمہاری نیتیں بچی ہیں یا جھوٹی ہیں۔فرمایافمن كانت هجرته الى الله و رسوله فهجرته الى الله جس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہے جس نے دنیا چھوڑی ہے خدا اور رسول کی خاطر وہ تو انہی کی طرف رہے گی۔یہ تو سادہ سی بات ہے لیکن ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے دنیا کو پالے گا۔امراة يتزوجھا جس کی ہجرت عورت کی طرف ہے تو وہ اس سے نکاح کرلے گا۔فهجرته الى ما هاجر اليه عملاً اس کی ہجرت وہی شمار ہوتی ہے جس کی نیت سے وہ چلا ہے۔پس ان دو باتوں کا کیا تعلق ہے۔جس کی ہجرت اللہ کی طرف وہ اللہ کی طرف ہو گی اور مراد یہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری ہر ہجرت اسی طرف ہے جس طرف تم بظاہر سمجھتے ہوئے عین ممکن ہے یہ خطرہ لاحق ہے کہ تم سمجھ رہے ہو خدا کی طرف جا رہے ہو لیکن مقصد کوئی اور دنیا کی چیز ہو۔پس تم دنیا کی چیز تو پالو گے لیکن خدا کو نہیں پاسکو گے۔اگر ہجرت خالصہ اللہ کے لئے ہوگی تو دنیا پر ٹھہرو گے نہیں۔رستے میں دنیا بھی پاسکتے ہو مگر اصلی مقام تک پہنچو گے یعنی خدا جس کی طرف تم ہجرت کر رہے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی ہجرت