خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد ۱۲ 80 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء کی موت کے لئے مقرر فرما دی گئی ہے جب وہ آتی ہے تو پھر اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوا کرتی۔واللہ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے خوب اچھی طرح واقف ہے جو تم کرتے ہو۔گزشتہ خطبہ میں جو آیت کریمہ میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی اس کا مضمون ان لوگوں سے تعلق رکھتا تھا جو خدا کی یاد پر دنیا کے اموال اور دنیا کی نعمتوں کو آگے بڑھانے میں زیادہ مصروف عمل رہتے ہیں اور خدا کی یاد پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور خدا سے غافل ہو جاتے ہیں۔ان کا کیا انجام ہے اس کا پہلے ذکر گزر چکا ہے۔ان کو دنیا کی دوڑ خدا کی طرف جانے سے غافل کر دیتی ہے فرمایا کہ اے ایمان لانے والو تم ایسے نہ بنا کیونکہ اگر تم بھی خدا کی راہ میں آگے بڑھنے سے اس لئے غافل رہ گئے کہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال کے تقاضے تمہیں دوسری طرف بلاتے ہیں تو لازماً تم بھی گھاٹا پانے والوں میں سے ہو گے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے یہاں اس کے معاً بعد اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ دیکھو ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب تم میں سے ہر ایک پر موت آئے گی اور وہ وقت ایسا ہے جو ٹالا نہیں جا سکتا اس وقت کے بعد اس دنیا کا حساب اس دنیا میں منتقل ہونے کا وقت آجاتا ہے جو خرچ تم پہلے نہیں کر سکے پھر اس کے خرچ کرنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا اس لئے یہ نہ ہو کہ تم پر ایسی حالت میں موت آئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے تقاضا کرو کہ اے خدا کیوں نہ تم نے ہمیں کچھ مدت کے لئے اور مہلت دے دی اگر تو مہلت دیتا تو ہم بھی اچھے کام کرتے ہم بھی نیکیوں میں آگے بڑھتے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دو طرح دیا اول یہ کہ جب خدا کی طرف سے آخری وقت مقررہ آجائے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ، کوئی اس وقت کو ٹال نہیں سکتا نہ خدا تعالیٰ اس کو آگے بڑھائے گا دوسرا جواب یہ ہے وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ جہاں تک تمہارا یہ کہنا ہے کہ مہلت مل جاتی تو ہم اچھے کام کرتے تو یہ جھوٹ ہے اگر ایسی بات ہوتی تو خدا ضرور مہلت دیتا۔دوم وَالله خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ الله تمہارے اعمال سے کتنا گہرا با خبر ہے کہ ان اعمال پر نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ فرمایا گیا ہے اس لئے یہ وہم کہ ہمیں اور مہلت ملتی تو اور نیکیاں ہم اختیار