خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 834
خطبات طاہر جلد ۱۲ 834 خطبه جمعه ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء قوت پیدا ہو جاتی ہے ورنہ آپ منہ سے انکار کر رہے ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اے خدا میں تو کچھ بھی نہیں ہوں، دل کہہ رہا ہو کہ کافی کچھ ہو۔محض خدا کی خاطر گر رہے ہو۔تو دعا میں جان کہاں سے پڑے گی۔دعا میں جان تو خطرے کے مقام سے پڑتی ہے ایک آدمی جو چھت سے گر رہا ہو رگرتے وقت کی اس کی چیخ ہے وہ اور قسم کی چیخ ہے محض بناوٹ سے چیخ مارنا بالکل اور بات ہے۔ایک بچے پر ایک درندہ جھپٹ رہا ہو اس کی جو شیخ ہے وہ بالکل اور نوعیت کی ہے اور عام حالات میں بچے کا چیختا رہنا اور ہے اگر ماں بچے کی وہ چیخ سن لے جو حقیقی خطرے کے وقت دل سے نکلتی ہے تو ماں اپنی جان اپنا سارا وجود خطرے میں جھونک دیتی ہے تا کہ اس بچے کو بچالے۔بس دعا میں قوت پیدا کرنے کے لئے یہ مضمون سمجھنا ضروری ہے اپنے عجز کو حقیقی بنا ئیں اور آپ کا عجز ہے ہی حقیقی ، ہم سب کا عجز حقیقی ہے، اگر ہم اس کو پالیں اگر اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھ جائیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔حقیقت میں ذلیل کیڑوں سے بڑھ کر ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے اور خدا نے جو عزتیں دی ہیں محض اس کی پردہ داریاں ہیں اور اس کی رحمت ہے جس کی چادر نے ہمیں لپیٹا ہوا ہے ورنہ حقیقت میں انسان خدا کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا۔اس حیثیت سے اپنے گردو پیش کے خطرات کو محسوس کر کے اگر دعا میں لگا ر ہے تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: توحید کا نور خدا کی طرف سے اس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اس کو بخشے گا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۴۸) یہ وہ تو حید ہے جونئی زندگی بخشتی ہے کیونکہ سب کچھ کی نفی جو ہو گئی۔تب تو حید قائم ہوئی ہے۔اگر ساری کائنات کی نفی کر دیں اور اپنے وجود کو قائم رکھیں تو حید کیسے ہو جائے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام بہت گہرے معنی رکھتا ہے اسے محض سرسری طور پر نہ پڑھیں ہر ر انسان کہتا ہے لا اله الا اللہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں۔لیکن وہ سوچتا نہیں کہ گر دو پیش کی نفی تو کر رہا ہے، کہنے والا اپنی بھی نفی کرتا ہے کہ نہیں اور اپنی نفی کرنا سب سے بڑا مشکل کام ہے۔یہ فی جگہ جگہ کرنی پڑتی ہے، روز مرہ زندگی میں بے شمار قدم ایسے اٹھانے پڑتے ہیں جہاں یہ مضمون آپ کے سامنے ایک تنبیہ کے طور پر آ کھڑا ہوتا ہے اور آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا تم اپنی نفی کر کے یہ قدم اٹھا رہے ہو یا خدا کی مرضی کے علاوہ ایک الگ قدم اٹھایا جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود