خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 833 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 833

خطبات طاہر جلد ۱۲ 833 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء مضمون پر یہ شیطانی نحوست ہے اس سے نجات حاصل کرنا لازم ہے۔فرمایا شیطانی نحوست کس طرح اس کو لاحق ہو جاتی ہے۔اس کی چند مثالیں دی ہیں۔فرمایا ”۔۔۔اس شیطانی نحوست کو چھوڑ دے کہ میں علوم میں پرورش یافتہ ہوں۔۔۔“ صاحب علم لوگوں کا تکبر بھی وہ خودی ہے جو خدا کے دربار میں رڈ ہو جاتی ہیں۔پس کوئی ایک انسان یہ سمجھے کہ میں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور میری اسی سے نجات ہے میں سب سے بڑا ہوں۔یہ بھی اسے سب سے چھوٹا کر کے چھوڑتی ہے یہ بات بھی۔پھر فرمایا وو۔۔۔ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصور کرے اور دعا میں لگا رہے۔۔۔66 عالم ہو کر اپنے آپ کو جاہل سمجھے۔اس سلسلے میں یہ بات میں ضرور سمجھانا چاہتا ہوں کہ عالم ہوکر ، جو میں نے لفظ کہے ہیں ان کے اندر ایک خامی ہے، اس بیان میں ایک خامی چھپی ہوئی ہے۔سچا عالم جب غور کرتا ہے اپنے علم پر اور ساری کائنات پر اور دیگر علماء کے حال پر اور ان علوم کے بے شمار مضامین پر جن سے وہ کلیہ بے بہرہ ہے اور پھر ہر عالم کے اس بنیادی نقص پر کہ کسی عالم کا بھی علم کامل نہیں ہوتا اور بڑے سے بڑا عالم بھی علم کے میدان میں ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے اور پھر وہ خدا پر نظر ڈالے۔علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (السجدہ :) کے مقام پر نظر ڈالے تو کوئی دنیا میں عالم ایسا نہیں ہے جو یہ کہے کہ میں عالم ہو کر پھر گر رہا ہوں۔وہ حقیقت میں اپنے آپ کو ضرور جاہل سمجھے گا اور اس وقت سچا بجز پیدا ہوتا ہے۔بعض لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہیں تو ہم عالم لیکن عجز کی خاطر کہتے ہیں ہمارے پاس کہاں علم ، ہم تو لاعلم لوگ ہیں۔وہ ان کا لا علم بنا بجر نہیں ہوتا بلکہ دکھاوا ہو جاتا ہے۔بعض امیر جس طرح کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو مزدور ہیں بس دو وقت روٹی کمانے والے ہیں حالانکہ لاکھ پتی ہوتے ہیں۔ان کا انداز بیان بھی ایک فخر رکھتا ہے۔ہم کیا ہیں مزدور ہی مزدور روٹی کمانے والے ہیں اور لاکھوں کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں ان کے۔تو علم کے ساتھ یہ حرکت کی جائے یا دولت کے ساتھ حرکت کی جائے بنیادی طور پر انسان کی انا جو ہے وہ اسے یہاں بھی دھوکہ دے رہی ہے۔یہ بھی شیطانی نحوست ہے۔سچا عجز وہ ہے جو حقیقت پر مبنی ہو اور انسان اگر گہری فراست کے ساتھ اپنی یافت پر غور کرے جو کچھ وہ حاصل کر چکا ہے اسے پہچانے ، پر کھے، اسے معلوم ہوگا کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔کوئی حیثیت نہیں ہے، پھر وہ سچا بجز پیدا ہوتا ہے جس کے بعد دعا میں جان پڑ جاتی ہے، طلب میں