خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 832
خطبات طاہر جلد ۱۲ 832 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء کی درگاہ میں قبولیت کا درجہ پالیتا ہے۔فرماتے ہیں:۔پس وہ بجز خدا اور اس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا وسیلہ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو۔تو پھر تمہیں یہ اپنے ذرے ذرے کو خدا کی خاطر فنا کر دینے کا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کر دے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۸) یہ بھی بڑا مشکل کام ہے۔فرمایا تو صرف یہ ایک کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو یہی دکھائی دیتا ہوگا کہ صرف اتنی سی بات ہے۔جو خودی پر موت وارد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو پتا چلتا ہے کہ یہ صرف بھی بڑا ہی مشکل کام ہے۔میں نے تو اکثر جگہ خودی کو ہی لوگوں کی ہلاکت میں کارفرما دیکھا ہے۔اتنی خطرناک چیز ہے کہ ہر جگہ خودی ، خودی، خودی ، پتا نہیں۔اقبال کے دماغ میں کون سی خودی گھسی ہوئی تھی کہ جس کے نتیجے میں کہتا تھا کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے (کلیات اقبال صفحہ ۳۸۴) وہ تصور خودی کا جو قرآن نے پیش فرمایا ہے جو محمد رسول اللہ اللہ نے پیش فرمایا ، جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھایا، وہ خودی تو مہلک ہی مہلک ہے اور اس کو ایسے مٹا دینا چاہئے کہ جیسے وجود ہی کوئی نہیں رہے۔فرماتے ہیں: خودی پر موت وارد کر دے، اس شیطانی نحوست کو چھوڑ دے۔“ امر واقعہ یہ ہے کہ خودی شیطانی نحوست ہے اور شیطانی نحوست کہنا اس لئے بہت موزوں ہے کہ شیطان کے متعلق قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ایسی جگہ سے حملہ کرتا ہے کہ جہاں سے تمہیں خبر نہ ہو اور خودی کا حملہ ہمیشہ ایسی جگہ سے ہوتا ہے کہ انسان کو خبر نہیں ہوتی۔متکبر لوگ اپنے نفس اور اپنی انا کی خاطر نیکیاں دکھانے والے، اپنے نفس اور انا کی خاطر دوسروں پر تنقید کرنے والے، نظام سے باغی ہونے والے وغیرہ وغیرہ۔بے شمار گروہ ہیں جو خودی کے مارے ہوئے ہیں اور ان کو پتا ہی نہیں۔ان سے حال پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ سب نیکی کی باتیں ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے اس شیطانی نحوست کو چھوڑ دیں۔بہت ہی عمدہ تذکرہ ہے۔خودی کے