خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 831
خطبات طاہر جلد ۱۲ 831 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء پیدا ہوتا ہے وجود کے ذرے ذرے میں سرایت کر جاتا ہے۔اپنی پوری شان کے ساتھ اس وقت انسان میں چمک نہیں سکتا جب تک اس سے پہلے آفاقی معبودوں کی نفی نہ ہو جائے۔پس بجز خدا اور اس کے رسول کے ذریعے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔۔۔“ یہاں ان لوگوں کے لئے ایک خوشخبری ہے جو سمجھتے ہیں تبتل کا مضمون اتنا مشکل ہے کہ اس کو سنے اور سمجھنے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ ہم میں تبتل کی طاقت ہی نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ قتل کی طاقت اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی کو بھی مل نہیں سکتی۔گزشتہ سے پیوستہ جمعہ پر کسی خطبہ سننے والے احمدی نے ایک دلچسپ تبصرہ کیا۔اس نے کہا آج تو تنبل کا مضمون سمجھنے کے بعد مجھے تو یوں لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے سوا اور کوئی بھی احمدی نہیں رہا۔یہی احمدی کہلا سکتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو فرماتے ہیں میری جماعت میں سے نہیں ہے ، یہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ان کا یہ فقرہ ایک دلچسپ تبصرہ تو ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ خلفاء بھی اللہ تعالیٰ کی تائید کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔انبیاء ایک ایسا تائید یافتہ گروہ ہے جن کے متعلق ہم لب کشائی نہیں کر سکتے لیکن خلفاء کا یہ حال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب جان جان آفرین کے سپر د کر رہے تھے تو بے قرار ہو کر بستر پر تڑپ تڑپ کر یہ کہہ رہے تھے۔لالی ولا عـــلــــی ( مسند احمد جز اول صفحہ ۴۶) اے میرے اللہ ! میں نیکیوں کا حساب نہیں مانگتا، میری غفلتوں سے درگزر فرمادے۔اس لئے کہنا بھی درست نہیں کہ خلفاء بھی اس مقام پر جاپہنچے ہیں جہاں وہ سمجھیں کہ بخشے گئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بخشش کے لئے ایک بے قرار دل چاہئے جو ہر وقت ، ہر آن ترساں رہے، خدا سے خوف زدہ رہے اور جانتا ہو اور یہ حقیقت ہے کہ صحیح جانتا ہے وہ کہ میرے اعمال اس لائق نہیں ہیں کہ اس خدا کے حضور قبول کئے جائیں۔وہ بخش دے، رحمت سے درگز رفرمادے اور قبول فرمادے تو اس کی رحمت کی شان ہے ورنہ حقیقت میں، میں حقدار نہیں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں تبتل کی تعریف کرتے ہوئے ایسا جلالی کلام فرمایا جس کو سن کر انسان لرز اٹھتا ہے اور ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ میں بھی جماعت سے باہر نکل گیا لیکن ساتھ دلداری بھی فرمائی ہے، طریق بھی سکھائے ہیں کہ کس طرح انسان اپنی کمزوریوں کے باوجود خدا