خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 828
خطبات طاہر جلد ۱۲ 828 خطبه جمعه ۲۹ را کتوبر ۱۹۹۳ء اور یہی جسمانی نظام کا حال ہے جو سب دنیا ویسے ہی جانتی ہے ۔ ہم جو چیز کھاتے ہیں اس کا صالح حصہ ہمارے خون میں جاتا ہے، جذب ہوتا ہے، ہمارے وجود کا حصہ بنتا جاتا ہے، جو چیز فساد کا موجب بن سکتی ہے نظام جسمانی کے لئے خلل کا موجب بن سکتی ہے، اس میں خرابی پیدا کر سکتی ہو، اس کو وہ تمام اعضاء جو خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے قائم فرمائے ہیں۔ باہر نکال دیتے ہیں اور اگر وہ باہر نکالنے کا سلسلہ از خود نہ ہو تو سارا نظام جسمانی فساد ہو جاتا ہے۔ پس یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ تربیت کرتے ہیں ان میں سے جو صالح اور قائم رہنے والے اور پاک طینت لوگ ہیں وہ از خود آپ کے وجود کا مستقل حصہ بنتے چلے جائیں گے اور وہ جو کبھی رکھتے ہیں اور غلطی سے جلد بازی میں آگئے ، وہ اسی تربیت کے دوران آپ سے آرام سے الگ ہو جائیں گے اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون آپ کا ہے اور کون آپ کا نہیں ہے اور جتنے الگ ہوں گے ان کے بدلے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان سے بہتر زیادہ صالح ، ان سے زیادہ پیار کرنے والے اور زیادہ قربانی کرنے والے لوگ میں تمہیں دوں گا اور کثرت سے دوں گا۔ پس اس تربیت کے نظام کو اگر پوری طرح عملی جامہ نہیں پہنایا گیا تو یہ نہ سمجھیں کہ تین مہینے ہو چکے ہیں اس لئے بات آئی گئی ہو گئی۔ یہ بات اس وقت تک آئی گئی نہیں ہوگی جب تک کہ سب نومبائعین کی تربیت کا کام اس حد تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ جاتا کہ وہ با قاعدہ نظام کا حصہ بن جائیں موں سے اور اس ضمن میں ، میں یہ جماعتوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ جیسے کہ میں نے کہا ہے کہ ذیلی تنظیموں ہے استفادہ کریں اور کچھ ان پر ذمہ داریاں ڈالیں اور پھر وہ مستقل اس کام کو جاری رکھیں ۔ اس کے لئے ایک مرکزی ٹیم الگ بنا دیں جو تبلیغی کاموں سے علاوہ خالصہ اسی کام کے لئے وقف رہے کیونکہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جن لوگوں کو تربیت کے لئے خدا تعالیٰ مقرر فرمانا چاہتا ہے ان کا ایک الگ گروہ کے طور پر ذکر فرمایا ہے ۔ کیوں نہ ہر قوم سے ایک ایسا فرقہ مرکز میں نہیں آتا جو خالصہ تربیت کے کام کرتا ہے یا کرے گا۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ تربیت کا نظام تین مہینے کے لئے تو ہنگامی نظام تھا، تین مہینے کے بعد سارا سال بلکہ سالہا سال ہمیشہ کے لئے یہ قرآن کا بیان فرمودہ جاری نظام بن جائے جس کو ہم اس طرح اختیار کر لیں کہ نظام جماعت کا ایک اٹوٹ انگ ہو جائے ، نا قابل جدا حصہ بن جائے ۔