خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 824 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 824

خطبات طاہر جلد ۱۲ 824 خطبه جمعه ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء - امید کی شکل میں نہیں بلکہ مایوسی کی شکل میں ہوتی ہے اور معلوم ہے کہ وہ کیا جواب دیں گے؟ اس سلسلے میں میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان ہو یا انصار اللہ یا لجنہ اماءاللہ ان کو اپنی مسلسل کوششوں میں ناکامی سے مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جلسہ سالانہ جب سے انہوں نے بند کیا اور ساتھ ہی ذیلی تنظیموں کے اجتماعات بند کئے ۔ یہ انہی پابندیوں کا فیض ہے جو ساری دنیا اب اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عالمی اجتماعات اور عالمی جلسوں کی صورت میں دیکھ رہی ہے اس لئے یہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں ۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان کو ایک ایسی نیکی کا پھل ملتا ہے جسے کرنے کی توفیق ملتی ہے بعض دفعہ ایک نیکی نہ کرنا اس درد کی وجہ سے بہت بڑا ثواب بن جاتا ہے جس نیکی کی راہ میں کوئی مجبوری حائل ہو اور انسان کا دل بے قرار ہو کہ میں وہ نیکی کروں لیکن مجبوراً نہ کر سکے بعض ایسی بھی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایسی نیکیوں کا ثواب کی ہوئی نیکیوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی یہ ایک الہی اشارے کے تابع عمرے اور حج کی نیت سے صلى الله مکے کی طرف روانہ ہوئے ، ساتھ آپ کے جاں نثاروں کا ایک بڑا قافلہ تھا اور حدیبیہ کے میدان پر جا کر آپ کو روک دیا گیا۔ وہ واقعہ بار بار جماعت کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔ اس کی تفصیل میں میں نہیں جاتا لیکن یہ یاد دلاتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ تعالی عنہم کی رائے اور اجتماعی رائے کے خلاف اللہ کی رائے کو ترجیح دی یعنی اللہ کے منشاء کو ترجیح دی اور باوجود اس کے کہ بشدت صحابہ کا اصرار تھا کہ ہم جانیں فدا کر دیں گے مگر یہ حج ضرور ہوگا یا یہ عمرہ ضرور ہو گا لیکن آنحضور ضور نے رضائے باری تعالیٰ کو فوقیت دی اور یہی ہونا تھا۔ آپ سے اس کے سوا کوئی کسی قسم کی توقع رکھی نہیں جا سکتی اور تمام صحابہ کی رائے کورڈ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ عمرہ اور حج جو نہیں ہو سکے تھے ان کی جزا قرآن کریم میں ایسی بیان ہوئی ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے کسی مقبول حج کسی مقبول زیارت کی ایسی جزاء نہیں دی گئی ۔ فرمایا کہ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (الفتح (۳) اے محمد ! صلى الله ہم تیرے اس فعل سے ایسا راضی ہوئے ہیں کہ تو نے ہماری خاطر ایک نیکی سے محرومی اختیار کر لی یعنی نیکی کا فلسفہ یہ ہے کہ خدا کی خاطر کوئی چیز کی جائے اور اسی فلسفے کی طرف دراصل توجہ دلائی گئی ہے خدا