خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 817
خطبات طاہر جلد ۱۲ 817 خطبه جمعه ۲۲ اکتوبر ۱۹۹۳ء اور سفر کے تعلقات کبھی بھی دائمی نہیں بن سکتے ۔ مجھے یاد ہے بچپن میں چونکہ مجھے پہاڑوں پر جانے کا بہت شوق تھا۔ ہمالہ کے خوبصورت پہاڑوں پر جو ایک بہت وسیع سلسلہ ہے جب بھی جاتا تھا اور جب سکول کی چھٹیوں کے دن ختم ہور ہے ہوتے تھے اور واپس جانا ہوتا تھا تو مجھے بہادر شاہ ظفر کا یہ شعر یاد آ جاتا تھا اور اکثر ان جگہوں پر بیٹھ کر یہ شعر گنگنا کر میں بہت لذتیں محسوس کرتا تھا اور وہ شعر یہ ہے کہ ه جو چمن سے گزرے تو اے صبا تو یہ کہنا بلبل زار سے کہ خزاں کے دن بھی قریب ہیں نہ لگا نا دل کو بہار سے نا ، پس انسان کے لئے خواہ خوبصورت جگہیں ہوں یا تکلیف دہ جگہیں، بہار کے موسم ہوں یا الله خزاں کے موسم ہوں، پیغام واحد یہی ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے کہ نہ وقتی آرام تمہیں متکبر کردیں اور جھوٹی ملکیت کی تمنائیں تمہارے دلوں میں پیدا کریں اور نہ عارضی تکلیف دہ مقامات تم پر نفسیاتی لحاظ سے غالب آ کر تمہیں مایوس کر دیں اور تم سمجھو کہ تمہارا سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہا۔ مسافر کی طرح رہو گے تو آرام کی زندگی کے ساتھ بھی تمہارے تعلقات درست رہیں گے اور تکلیف کی زندگی کے ساتھ بھی تمہارے تعلقات درست رہیں گے۔ صلى ال پھر حضرت سہیل بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے کہ جب میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرنے لگے اور باقی لوگ بھی مجھے چاہنے لگیں ۔ بڑا مشکل سوال ہے۔ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ایسا کام کروں کہ اللہ محبت کرے تو دنیا سے تعلق توڑنا پڑے گا اور ایسا کام کروں کہ دنیا مجھے چاہنے لگے تو گویا اللہ سے تعلق توڑنا پڑے گا ۔ کتنا مشکل سوال تھا جو بظاہر کیا گیا لیکن جواب دیکھیں۔ کیسا عارفانہ کیسا عظیم جواب ہے ۔ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ دنیا سے بے رغبت اور بے ۔ نیاز ہو جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرنے لگے گا اور یہی فعل تمہارے لئے لوگوں کی محبت بھی پیدا صلى الله ا کر دے گا۔ یہ فرمایا جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی خواہش چھوڑ دو تو لوگ تجھ سے محبت کرنے لگیں گے ۔ (ابن ماجه کتاب الزهد حدیث نمبر (۴۰۹۲) کتنا حیرت انگیز عارفا نہ جواب ہے۔ اس کو پڑھ کر عقل ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے کہ کیسا برجستہ جواب اللہ تعالیٰ نے فوراً آنحضرت صلى الله لوسه