خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد ۱۲ 816 خطبه جمعه ۲۲ /اکتوبر ۱۹۹۳ء یہ تو ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے اور بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر چند ایسی مثالیں جن سے آپ کو یہ مضمون سمجھنے میں آسانی ہوگی جو میں نے چینی ہیں۔ایک نصیحت کے طور پر بخاری۔کتاب صلى الله الرقاق باب قول النبی اله الا الله کن فی الدنیا کانک غریب۔یہ عنوان حضرت امام بخاری نے باندھا ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت تم نے میرے کندھوں کو پکڑا اور فرمایا تو دنیا میں ایسا بن جا گویا تو پر دیسی ہے یا راہ گزر مسافر ہے۔( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر ۵۹۳۲) ی تل کی وہ تعریف ہے جو آنحضرت ﷺ کی ذات پر سب سے زیادہ صادق آئی اور اس کی روشنی میں ہم اس مضمون کو زیادہ بہتر رنگ میں سمجھ سکتے ہیں۔ترمذی۔کتاب الزھد میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت مسی چٹائی پر سور ہے تھے جب اٹھے تو چٹائی کے نشان پہلو مبارک پر نظر آئے۔ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کے لئے نرم سا گدیلہ نہ بنادیں۔اگر ایک نرم سا گدیلہ ہم آپ کے لئے بنا دیں تو کیا اچھانہ ہو؟ آپ نے فرمایا: مجھے دنیا اور اس کے آراموں سے کیا تعلق؟ میں اس دنیا میں اس شتر سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے سستانے کے لئے اترا اور پھر شام کے وقت اس کو چھوڑ کر آگے چل کھڑا ہوا۔(ترمذی کتاب الزهد حدیث نمبر : ۲۲۹۹) یہ عجیب مثال ہے۔آپ سفر کرتے ہیں تو آپ کو بہت سی چیزیں اچھی بھی لگتی ہیں۔سفر کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چیزوں کا پسند آنا منع نہیں ہے۔آرام کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔کئی سایہ دار اشجار راہ میں آپ کی مہمانی کے لئے آپ کو آرام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما رکھے ہیں۔لیکن سفر کی حالتوں پر غور کر کے دیکھیں وہ سب تعلقات عارضی دکھائی دیتے ہیں اور انسان کسی جگہ اپنی منزل بنا کر ٹھہر نہیں جایا کرتا۔اچھے مقامات بھی آتے ہیں، برے مقامات بھی آتے ہیں ،سبزہ زاروں میں چشمے بھی بہہ رہے ہوتے ہیں میٹھے پانی بھی مہیا ہوتے ہیں۔صحراؤں میں پیاس کی تلخیاں بھی برادشت کی جاتی ہیں اور کئی قسم کی مصیبتیں ہیں لیکن ایک مسافر جب ان سے گزرتا ہے تو نہ تکلیفیں ہمیشہ کے لئے اس کو مغلوب کر دیتی ہیں یا مایوس کرسکتی ہیں، نہ عارضی لذتیں اس کے قدم تھام سکتی ہیں۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ لذتیں بھی عارضی ہیں یہ میرا اصل مقام نہیں ہے اور یہ تکلیفیں بھی آئیں اور چلی گئیں مگر میری منزل تو کہیں اور ہے۔پس ہمیشہ منزل کا خیال اس کے دامنگیر رہتا ہے