خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 815 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 815

خطبات طاہر جلد ۱۲ 815 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۹۳ء اس کے بعد کی جو دنیا ہے اس میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اپنے نفس سے بھی ایک تعلق پیدا ہوا۔مخلوق سے بھی ایک تعلق پیدا ہوا اور اسباب سے بھی ایک تعلق پیدا ہوا مگر کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ و لنفسک علیک حق دیکھو میرے بندے تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔پس وہ قطع تعلق ایک نئے تعلق میں تبدیل ہو گئی جو اللہ کی طرف سے ملا اور یہی مضمون خلق سے تعلق اور اسباب کے ساتھ تعلق پر بھی برابر حاوی ہے اور برابر اطلاق پاتا ہے۔گویا آپ کا ہر تعلق رضائے باری تعالیٰ کے تابع ہو کر ایک نئی روح کے ساتھ قائم ہوا ہے اور اسی حد تک قائم ہوا۔جس حد تک خدا نے چاہا کہ یہ تعلق قائم ہو۔پس نفس کے تعلق میں اور مخلوق کے تعلق میں اور اسباب کے تعلق میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ایک کامل مثال بن گئے جس حد تک آپ آپنے نفس کا لحاظ رکھتے تھے اور دوسروں کے نفوس کا لحاظ رکھتے تھے وہ ایک خاص تفریق جو اپنے نفس اور غیروں کے درمیان کی جاتی تھی۔وہ تل کی ایک بہت ہی اعلیٰ مثال ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تعلقات کو ایک نئی روح ملتی ہے ،نئی روشنی عطا ہوتی ہے۔ویسا ہی اگر ہم کریں اور ویسا ہی اسباب سے تعلق رکھیں جیسا حضرت اقدس محمد رسول اللہ نے اسباب سے تعلق توڑنے کے بعد پھر دوبارہ خدا کی خاطر قائم فرمایا ہے تو یہی اس دنیا میں نجات کا آخری ذریعہ بلکہ پہلا اور آخری ذریعہ ہے اس سے بہتر نجات کی کوئی اور تعریف ممکن نہیں دنیا بھر کے مذاہب میں آپ تلاش کر لیں مگر یہ تعریف جو تقتل اور پھر دوبارہ تعلق کی آنحضرت ﷺ کی سیرت پر غور کرنے کے بعد ہمیں سمجھ آتی ہے اس سے بہتر نجات کی کوئی اور تعریف ممکن نہیں ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ( الاحزاب : ۷۲ ) تم نجات کی راہیں پوچھ رہے ہو ہم تمہیں فوز عظیم کی راہ بتاتے ہیں۔تم نجات کی کیا با تیں کرتے ہو ہم نجات کی ایسی راہ بتاتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر نجات ممکن نہیں ہے اور وہ نجات خدا اور محمد رسول اللہ کی متابعت میں ہے۔اللہ کی اطاعت کرو۔محمد رسول اللہ اللہ کی اطاعت کرو اس میں ساری نجات ہے۔پس میں جو نجات کا مضمون اس کے ساتھ باندھ رہا ہوں تو اپنی طرف سے نہیں بلکہ قرآن کریم نے واضح طور پر اس کو نجات ہی کے مضمون کے طور پر پیش فرمایا ہے۔اب میں آپ کے سامنے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے تبتل کی چند مثالیں رکھتا ہوں