خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 814 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 814

خطبات طاہر جلد ۱۲ 814 خطبه جمعه ۲۲ /اکتوبر ۱۹۹۳ء جب تک انسان کی محبت کی جڑیں اللہ تعالیٰ کی ذات میں پیوستہ نہیں ہو جاتیں اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تمہاری نیکیوں کو ثبات میسر نہیں آسکتا۔ہم نے روزمرہ دیکھا ہے کہ ایک انسان نیکیوں کو اختیار کرتا ہے پھر اکھڑ جاتا ہے پھر اختیار کرتا ہے پھرا کھڑ جاتا ہے۔ہر وقت اس دغدغہ میں اس کا وقت گزرتا ہے کہ کیا کروں، کس طرح اپنی نیکیوں کو ثبات بخشوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا حل پیش فرما دیا کہ اس کا حل محبت الہی میں ہے۔ہر محبت کے مقابل پر محبت الہی کا ایک موقع ہے جس جس محبت میں تم دنیا سے تعلق کاٹ کر اللہ تعالیٰ کی محبت اختیار کرو گے تو لازماً وہیں تمہاری ان نیکیوں کو ثبات مل جائے گا جن کا اس مضمون سے تعلق ہے۔پھر آنحضرت ماہ کی مثال دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: آنحضرت ﷺ اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی صلى الله زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا تعالیٰ کے لئے ہوگئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا ( یہ کامل تبتل ہے ) اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی ( ریویو آف ریلیجنز - جلد اول صفحه: ۱۷۸) تقتل کا یہ مضمون اپنی انتہا تک پہنچا ہوا ہے اس سے آگے کا تجمل ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں اس کی محبت میں ہر دوسرا تعلق بالکل کا لعدم ہو جائے بلکہ عدم ہو جائے اور اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔جو شخص اپنے نفس سے کامل طور پر کاٹا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے نفس کا ذکر فرمایا ہے، کامل طور پر اپنے نفس سے کاٹا گیا مخلوق اور اسباب سے کاٹا گیا۔امر واقع یہ ہے کہ مخلوق اور اسباب سے کٹنے سے پہلے نفس سے کٹنا ضروری ہے یہ یاد رکھیں۔مخلوق اور اسباب کے تعلق کی جڑیں نفس کے اندر ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عرفان کی بہت ہی گہری بات فرمائی ہے اور بڑی حکمت سے اس ترتیب کو قائم فرمایا ہے۔فرماتے ہیں حضرت محمد مصطفیٰ نفس سے کاٹے گئے۔اپنی ذات سے کاٹے گئے اور اس کے نتیجہ میں لازم تھا کہ مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ آپ میں باقی نہ رہے تب ایسا ہوا کہ آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری کہ اس میں غیر کی ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی۔