خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 812
خطبات طاہر جلد ۱۲ 812 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء ہو رہی ہے اس وقت تجمل اختیار کر لینا ورنہ تشغلوا اور نہ وہ بیماریاں جن سے بچ کر خدا کی طرف آنے کی ہم تمہیں ہدایت کر رہے ہیں وہ تمہیں گھیر لیں گی ہم ان میں مشغول ہو جاؤ گے پھر تمہارا بچ نکلنا مشکل ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تجل کے مضمون پر فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو واحد سمجھتا ہے ( یعنی انسان جو اللہ تعالیٰ کو واحد سمجھتا ہے ) پھر دوسرے سے بھی تعلق رکھتا ہے تو توحید کہاں رہی ؟ (ایک نہ رہا کچھ اور بھی اس کے ساتھ پیدا ہو گئے ) یا خدا تعالیٰ کو رازق مانتا ہے مگر کسی دوسرے پر بھی بھروسہ کرتا ہے یا دوسرے سے محبت کرتا ہے یا کسی سے امید اور خوف رکھتا ہے تو اس نے واحد کہاں مانا ؟ غرض ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے سے تو حید حقیقی متحقق ہوتی ہے مگر یہ اپنے اختیار میں نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ہستی پر کامل یقین سے پیدا ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه : ۳۴۸-۳۴۹) پھر فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بار اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع ( یعنی تبتل۔علیحدگی ) اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه :۳۳) یہ بہت ہی گہرا امضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔فرمایا: اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے محویت سے مراد ہے خدا کے لئے خالص ہونا۔اس کا لفظی ترجمہ تو ہے اس میں کھوئے جانا۔خدا تعالیٰ میں کھوئے جانے کی ضرورت ہے اور یہ کیسے حاصل ہوسکتا ہے جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع نہ ہو یعنی پہلی منزل اس کی یہ ہے کہ دنیا سے انسان کا ٹا جائے۔اگر کا ٹا نہیں جاتا تو اس کا پیوند خدا تعالیٰ کی ذات میں لگ نہیں سکتا جب تک کہ صفات سدیم سے اس کا تعلق کا ٹا نہیں جاتا اور دنیا کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے فطرتوں میں طبعی جوش