خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد ۱۲ 811 خطبه جمعه ۲۲ /اکتوبر ۱۹۹۳ء ارادے بھی اس کے ساتھ رخصت ہوئے۔پس آنحضرت میں نے قبل ان تشغلوا جو فرمایا تو مراد یہ ہے کہ نیک کاموں کے علاوہ ایسے مشاغل میں مبتلا ہو جاؤ جو تمہیں نیک کاموں سے غافل کر دیں، جن کی وجہ سے تمہارے نیک مواقع ہاتھ سے جاتے رہیں۔تشغلوا میں ایک اور بھی تنبیہہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی نقدی تمہیں مصیبتوں میں مبتلا فرمادے، تم ایسے گورکھ دھندوں میں پڑ جاؤ جو تمہارے لئے تکلیف کا موجب بنیں اور پھر نیک اعمال کی طرف لوٹنے کی تم میں صلاحیت ہی نہ رہے۔تشغلوا میں مرضیں بھی آجاتی ہیں ایک صحتمند انسان عبادت کا جیسا حق ادا کر سکتا ہے بیمار نہیں کر سکتا لیکن اگر انسان صحت کے ہوتے ہوئے عبادت سے غافل رہے تو بسا اوقات ایسے انسان میں ایسی بیماریاں آجاتی ہیں کہ وہ پھر عبادت کے لائق ہی نہیں رہتا یہ مضمون بڑا وسیع ہے۔ہر نیکی کی راہ میں کوئی نہ کوئی بیماری حائل ہو سکتی ہے۔پس آنحضور یہ نے قبل ان تشغلوا کہہ کر احتمالی بیماریوں کا بھی ذکر فرما دیا احتمالی حادثات کا بھی ذکر فرما دیا اور کئی قسم کے گورکھ دھندے جو انسان کو گھیر لیتے ہیں اور انسان ان میں مبتلا ہو جاتا ہے ان کا بھی ذکر فرما دیا اور اس بنیادی فطرت انسانی کا بھی ذکر فرما دیا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو نیک ارادوں پر تیار پاتا ہے اس وقت وہ ارادہ اگر عمل میں نہ ڈھلے تو وقت ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔پس اس پہلو سے توبوا الى الله قبل ان تموتوا کا مضمون جو دراصل تبتل سے تعلق رکھتا ہے اس کے یہ سارے پہلو بھی ہمارے سامنے آگئے۔یعنی تمل ہر اس موقع پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں ایک روحانی تحریک پیدا ہورہی ہو۔اس طرح زیادہ آسانی کے ساتھ ٹکڑ اٹکڑا تل کی توفیق مل سکتی ہے۔جب دل میں ایک نیکی کی لہر دوڑی اس حصہ پر عمل کر لیا کیونکہ وہ عمل کرنے کا سب سے زیادہ آسان موقع ہے کہ دل کی ہوائیں اور دل کے مزاج اس نیکی کو اختیار کرنے کے مطابق چل رہے ہیں، ان کے مخالف نہیں چل رہے۔اس پہلو سے تبتل کو اختیار کرنے کے طریق ہمیں سمجھا دیئے گئے کہ اگر تم زور اور کوشش کے ساتھ تبتل اختیار کرنے کی کوشش کرو گے یعنی بعض بدیاں چھوڑ کر نیکیوں کی طرف آنے کی کوشش کرو گے تو ممکن ہے کہ تمہیں توفیق نہ ملے۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ایسے وقت تم پر ضرور آئیں گے جب نیکی کی طبعی تحریک دل میں پیدا