خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 810
خطبات طاہر جلد ۱۲ 810 خطبه جمعه ۲۲ را کتوبر ۱۹۹۳ء غلط بات کہی ہے لیکن دل میں اس وجہ سے چھپا جاتے ہیں کہ شاید ادب کا غلط تصور ہے یا اس وجہ سے چپ ہو جاتے ہیں کہ میرے تقویٰ کا غلط تصور ہے اور ڈرتے ہیں کہ میں برا مناؤں گا۔ان سب کے علم میں یہ بات آجانی چاہئے کہ یہ ترجمہ درست ہے غلط نہیں ہے اگر چہ بعض علماء لفظ نقص کا دوسرا معنی بھی لیتے ہیں جو غلط نہیں لیکن بہت بڑے بڑے علماء کے نزدیک یہ بھی درست ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ گزارش کی تھی کہ صوفیاء کا ایک بہت ہی مشہور مقولہ ہے موتــوا قبل ان تموتوا۔میں نے احادیث میں تلاش کیا کہ آنحضرت ﷺ نے بھی کہیں یہ فرمایا ہے تو میرے علم میں ایسی کوئی حدیث تو نہیں آئی جس میں یہ فرمایا ہو کہ موتوا قبل ان تموتوا۔لیکن ایک اور حدیث میں اس مضمون کو آنحضرت ﷺ نے زیادہ احسن رنگ میں یوں پیش فرمایا ہے: يايها الناس توبوا الی الله قبل ان تموتوا کہ اے بنی نوع انسان ! اللہ تعالیٰ کے حضور تو بہ اختیار کر و پیشتر اس سے کہ تموتوا تم مرجاؤ۔بادر و ابا لاعمال الصالحة قبل ان تشغلوا اور اعمال صالحہ بجالانے میں جلدی کرو پیشتر اس کے کہ تم دوسری باتوں میں مشغول کردئے جاؤ۔ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوۃ حدیث نمبر : ۱۰۷۱) دوسری باتوں میں مشغول کر دئے جانے کا جو مضمون ہے یہ مزید وضاحت طلب ہے۔اس میں بہت ہی گہری حکمت کا بیان ہے۔اگر انسان اعمال صالحہ کی بجا آوری میں جلدی نہیں کرتا تو ایسے مواقع بسا اوقات ہاتھ سے کھوئے جاتے ہیں اور پھر ہاتھ نہیں آیا کرتے۔ہر انسان کے اندر تبدیلی کا ایک وقت آتا ہے۔دل سے ایک موج اٹھتی ہے جو نیکی کی موج ہوتی ہے۔اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں یوں کر دوں اور یوں کر دوں۔قرآن کریم کے مطالعہ کے وقت احادیث کے مطالعہ کے وقت ، بزرگوں کے اقوال خصوصاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات سے بار ہادل میں ایسی لہریں اٹھتی ہیں کہ میں اپنے کو یہ کرنے پر آمادہ پارہا ہوں۔میرا دل چاہتا ہے میں ایسا ہو جاؤں وہ وقت اس نیک ارادے کو عمل میں ڈھال دینے کا ہے اور اگر انسان جلدی نہ کرے تو یہ وقت ضرور ہاتھ سے چلا جاتا ہے، وہ کیفیت مدام نہیں رہتی اسی طرح رمضان المبارک میں بھی ایسے وقت آتے ہیں، ایسی راتیں آتی ہیں جب انسان کا دل چاہتا ہے کہ سب کچھ خدا کے حضور حاضر کر دے اور اس وقت ہمت نہیں ہوتی کہ اس خواہش پر عمل پیرا ہو سکے۔عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں رمضان گیا اور نیک