خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 804 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 804

خطبات طاہر جلد ۱۲ 804 خطبه جمعه ۱۵ را کتوبر ۱۹۹۳ء تہمت لگائے گا اور عملاً اس سے یہ بتانا ہوتا ہے کہ دیکھو جی ! یہ لوگ سب یہ کر رہے ہیں اور ہم پر باتیں کر رہے ہیں۔عورتیں کہ دیتی ہیں کہ وہ دیکھو جی پر دے میں کیا کیا کرتی ہے اور میری بے پردگی پر اعتراض ہے اور اس کی اپنی ادائیں دیکھو کیا ہیں۔ہر تہمت کے پیچھے ایک احساس کمتری ضرور ہوتا ہے یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص احساس کمتری سے پاک ہو اور تہمتیں لگانے کا عادی ہو۔میرے اس بیان کو آپ اپنے تجربہ پر اطلاق کر کے دیکھ لیں۔آپ کو ہر تجربہ کی روشنی میں ان تہمت لگانے والوں میں کوئی نہ کوئی ایسی کمزوری نظر آئے گی جس پر عملاً پردہ ڈالنے کے لئے اور جواز مہیا کرنے کی خاطر وہ معصوموں کو الزامات سے چھیدتے ہیں اور ان کے دل زخمی کرتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام بدیوں کا ذکر کرنے کے بعد جو یہ فرمایا کہ وو اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا۔وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔یہ سب زہریں ہیں تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے در تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔۔۔کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں اور اپنے دلوں کر ہر ایک آلودگی سے پاک کر لیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں ( وفاداری کا یہ عہد تقبل کے بعد ہے اس سے پہلے نہیں ہوسکتا ) کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدا ان کا وہ ہر ایک بلا کے وقت بچائے جائیں گے“ (کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه : ۱۸-۲۰) پس آج یہ مضمون اسی حد تک بیان کر کے اب اجازت چاہتا ہوں۔باقی باتیں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں پیش کروں گا۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔