خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد ۱۲ 803 خطبه جمعه ۱۵ را کتوبر ۱۹۹۳ء اپنے دل کی بات کو بیان نہیں کرتا یا چپ کر کے بیٹھا رہتا ہے تو ایسا شخص عملاً اس میں شامل ہو جاتا ہے۔پس ہاں میں ہاں ملانے سے مراد یہ ہے کہ ایسی مجالس میں جہاں دین کو تخفیف یعنی حقارت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہو اور دین پر مذاق اڑائے جا رہے ہوں تو ایسا شخص جو وہاں سے نہیں اٹھتا اور عملاً ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔فرمایاوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔پھر فرمایا’ہر ایک زانی، فاسق ، شرابی، خونی چور، قمار باز ، خائن، مرتشی ، غاصب، ظالم، دروغ گو، جعلساز اور ان کا ہمنشین۔۔۔‘“ یعنی ایسے لوگوں کے ساتھ جو عملاً موید بن چکا ہوتا ہے۔یہ جانتے ہوئے کہ یہ بدیاں ہیں پھر بھی ان کے ساتھ تعلقات ایسے بڑھا لیتا ہے کہ دراصل ان سے استفادہ کر رہا ہوتا ہے۔یہاں ہم نشین سے مراد اتفا قایا کچھ دیر کے لئے کہیں بیٹھنے والا یا ساتھ پھرنے والا مراد نہیں ہے۔ہم نشین ایک محاورہ ہے جیسے شرابیوں کے ہم نشین ہوتے ہیں وہ ان کے ساتھ کچھ کھا پی بھی لیتے ہیں اگر نہ بھی پیتے ہوں تو اس مجلس کا لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں تو ہم نشین کا مطلب ہے کہ جوان کی ان سب بدیوں میں کسی نہ کسی رنگ میں یا مؤید ہوتے ہیں یا ان کا لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں، یہ مجلسیں ان کو اچھی لگ رہی ہوتی ہیں۔تبھی وہ ان میں اٹھنا بیٹھنا اپنا ایک مستقل شعار بنا لیتے ہیں۔زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔فرمایاوہ سب میری جماعت میں سے نہیں ہیں۔پھر فرمایا : وو اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“ یہاں اس پہلے مضمون کے ساتھ تہمتیں لگانے کا جو ذ کر ملادیا ہے یہ قابل غور بات ہے کیونکہ میں نے تہمتیں لگانے والوں کے حالات پر جہاں تک غور کیا ہے اور کافی مختلف قسم کے ایسے حالات سامنے آتے ہیں تو ان پر غور کا موقع ملتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہر تہمت لگانے والا خود کسی بدی میں مبتلا ہوتا ہے اور تہمت لگانا اس بدی کو چھپانے یا اس بدی کا جواز ڈھونڈنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ایک آدمی جو کسی خاص گناہ میں ملوث ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی اور شخص ایسا پاکباز ہے جس کی سوسائٹی میں عزت اور قدر ہے تو وہ اگر دیکھتا ہے کہ ایسے شخص پر تہمت کا موقع مل گیا ہے یعنی حالات کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ لوگ اس بات کو قبول کر لیں کہ یہ شخص بھی اس بدی میں مبتلا ہے تو وہ ضرور وہاں