خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 800
خطبات طاہر جلد ۱۲ 800 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء درست ہے جس کے خلاف ان کو شکایات ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ میری دین کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ میں آپ نقصان اٹھا جاؤں اور کسی اور کی ٹھوکر کا موجب نہ بنوں۔یہ سچی مامتا جس کی مثال حضرت سلیمان کے فیصلے کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتی ہے۔دو عورتوں کا آپس میں جھگڑا ہوا۔دو عورتوں کے بہت پیارے دو بچے تھے۔ایک کا بچہ مر گیا تو وہ مامتا میں ایسی پاگل ہوئی کہ اس نے کہا کہ میں تو بچے کے بغیر رہ نہیں سکتی۔چنانچہ اس نے دوسری عورت کا بچہ اس سے چھین لیا اور اسے اپنا بنالیا۔دونوں عورتیں جھگڑ رہی تھیں اور کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیسے فیصلہ کریں۔حضرت سلیمان کی عدالت میں ان کو پہنچایا گیا۔بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان نے جب دونوں طرف کی باتیں سنیں تو فیصلہ فرمایا کہ آسان بات تو یہی ہے کہ اس بچے کے دوٹکڑے کر دیئے جائیں۔آدھا ایک کو دے دیا جائے اور آدھا دوسری کو دے دیا جائے۔کیونکہ ہم تو عالم الغیب نہیں۔ہمیں نہیں پتا کہ کس کا ہے۔پس یہ ناممکن ہے کہ ایک کومحروم کر کے دوسری کو دیا جائے۔ہوسکتا ہے کہ وہ جسے محروم کیا جائے وہی کچی ماں ہو اس لئے ایک ہی علاج ہے کہ اس کو دوٹکڑے کر دیا جائے۔جس کا بچہ تھا اس کی چھینیں نکل گئیں۔اس نے واویلا شروع کر دیا اور کہا کہ میں جھوٹی تھی یہ بچہ اس کا ہے اس کو دے دو۔وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ اس کے بچے کے دوٹکڑے کئے جائیں اور حضرت سلیمان کی یہی حکمت تھی جس کی وجہ سے وہ غیر معمولی طور پر صاحب حکمت مشہور ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سمجھ گیا ہوں کہ کس کا بچہ ہے۔جو رو رہی تھی کہ میرا بچہ نہیں ہے اس کو بچہ پکڑا دیا۔پس وہ جو سچی محبت کرنے والے ہیں وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ جس چیز سے محبت ہے۔اس کو نقصان پہنچے۔” میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا کا یہ مضمون ہے۔ہر فیصلے کے وقت میں یہ سوچوں گا کہ میرے دین کو نقصان ہورہا ہے یا مجھے نقصان ہورہا ہے۔اگر دین کو نقصان ہورہا ہے تو اپنا ہر نقصان انسان خوشی سے قبول کر لے یہ تل ہے اور یہ تجمل لازماً اسے خدا کی گود تک پہنچائے گا۔یہ ناممکن ہے کہ ایسا انسان خدا کی محبت کے بغیر پھر زندہ رہ سکے یا خدا کی محبت اسے قبول نہ کرے اور خدا کی محبت کی حالت میں جان نہ دے۔پس یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں کہ ” جو شخص در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام کتنا