خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 796

خطبات طاہر جلد ۱۲ 796 خطبه جمعه ۱۵ را کتوبر ۱۹۹۳ء دماغ بھی کسی نہ کسی عذر کی طرف جاتا ہے اور بد کا دماغ بھی جاتا ہے نیک کا دماغ جب جاتا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کو ٹولتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ نہیں۔میں نے یہ کام نہیں کرنا اور بدفریب دہی کی وہ باتیں لذت کے ساتھ سوچتا ہے اور اس لذت میں گم ہو کر اپنے آپ کو یہ Compliments دے رہا ہوتا ہے ، اپنی یہ تعریف کر رہا ہوتا ہے کہ مجھ سے زیادہ کون ہوشیار ہوگا۔میں نے یہ ترکیب سوچ لی ہے اور یہ ترکیب سوچ لی ہے۔یہی فریب کا ایک فطری رجحان ہے جو تمام گناہوں سے پہلے انسان کے دل میں جنم لے چکا ہوتا ہے۔جتنے بھی گناہ ہیں ان کی تعریف آپ جو چاہے کر لیں لیکن ہر انسان گناہ کے وقت دل میں جانتا ہے کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے میں کھلم کھلا منظر عام پر پیش کروں اور اس پر فخر کروں۔یا سزا کا خوف مانع ہو جائے گایا اپنی Reputation یعنی دنیا کے سامنے جو اپنی شان بنارکھی ہے اس کے داغدار ہونے کا خیال مانع ہو جائے گا۔پس اس وقت انسان ضرور فریب کی بات سوچتا ہے کہ میں اس طرح بچوں گا اور اس طرح بچوں گا۔یہ طریق اختیار کروں گا اور یہ طریق اختیار کروں گا اگر پکڑا گیا تو یہ کہوں گا اور یہ ساری باتیں فریب کے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ہر جگہ ایک ایسا بندھن ہے جس کو توڑے بغیر آپ خدا کی طرف جاہی نہیں سکتے۔تو دعا کس طرح کریں گے کہ اے اللہ! مجھے فریب سے بچا اور وہ دعا کام کیا آئے گی جہاں اپنے آپ کو آپ نے فریب سے باندھ رکھا ہے، ہر ابتلا کے وقت ایک جھوٹے خدا کی پناہ مانگ رہے ہوتے ہیں اور دعا کر رہے ہیں اور کروا ر ہے ہیں کہ اے اللہ ! ہم فریب سے نجات چاہتے ہیں ہمیں بخش دے۔دعا کا مضمون کوشش کے بعد یا کوشش کے ساتھ شروع ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ہر وہ کوشش جود عا کے برعکس سمت میں جا رہی ہے آپ کی دعا کو نا کام کر دیتی ہے سوائے اس کے کہ ایک اور لطیف مقام تک انسان پہنچ جائے جہاں خوب دل کو مٹول کر دیکھے کہ مجھے برائی سے نفرت بھی ہے اور میں واقعہ فیصلہ کر رہا ہوں کہ میں اس سے بچنا چاہتا ہوں اس وقت عجز کی ایک اور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور انسان خدا کے حضور عرض کرتا ہے کہ اے اللہ ! معاملہ میری کوشش کی حد سے آگے جا چکا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے تو میں اس برائی میں ہمیشہ مبتلا رہوں گا۔میں عادی بن گیا ہوں ایسے ہی گناہوں میں ملوث لوگوں کی مثال Drug Addicts کی سی ہے۔وہ لوگ جو Drugs وغیرہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں بسا اوقات کچھ عرصہ کے بعد ان کی اس