خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 793 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 793

خطبات طاہر جلد ۱۲ 793 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء نہیں ہوتا۔دنیا سے مجبوری کا تعلق کاٹنے کے بعد جو دھکے کھا کر آتا ہے اس کو اگر اللہ تعالیٰ اپنی درگاہ میں جگہ دے دے تو احسان ہے لیکن اس سے وہ محبت پیدا نہیں ہوسکتی جواللہ تبتل کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور للہی تنبل انہی لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہر موقع پر خدا کو ترجیح دے کر غیر اللہ سے منہ موڑتے ہیں اور تعلق قطع کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے اسے احسن القصص بیان فرمایا۔میں شروع میں جب پڑھا کرتا تھا تو حیران رہ جاتا تھا کہ یہ قصہ آخر ایسا احسن کیا ہے لیکن جوں جوں غور کیا تو اس بات کی سمجھ آتی گئی کہ تنبل کے مضمون میں ایک عظیم الشان قصہ ہے۔قرآن کریم جب قصہ کہتا ہے تو حقیقت کو قصہ بتا تا ہے پس قرآنی اصطلاح میں ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس پر جتنا غور کریں انسان حیران ہوتا چلا جاتا ہے۔پس بے انتہا تعلق ہو اور بے انتہا تعلق کے سارے محرکات موجود ہوں اور خوف بھی بے انتہا ہو، خوف کے سارے موجبات دوسری طرف موجود ہوں اور انسان کا دل بیچ سے پہلے یہ فیصلہ کرے کہ نہ میں خوف سے ڈروں گا نہ میں اپنے ذاتی تعلق کی حرص میں غلط فیصلہ کروں گا میں جس کا ہوں اسی کا ہو چکا ہوں۔اسی سے مدد مانگتا ہوں اسی کی طرف جھکتا ہوں اور اسی سے چاہتا ہوں کہ وہ مجھے اس صورت حال سے بچا لے۔پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شان کے ساتھ اس دعا کو قبول فرمایا اور ہر بدی سے بہتری کی ایک صورت پیدا فرما دی اور ترقیات کا عظیم سلسلہ شروع کیا ہے۔پس اس پہلو پر غور کر کے اپنی بدیوں پر نظر ڈال کر یہ فیصلہ کریں کہ آپ کس حد تک ان سے علیحدہ ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔جب کشتی نوح کا مطالعہ کرتا ہوں تو بعض دفعہ عبارتوں سے خوف آتا ہے، بعض دفعہ دل لرزتا ہے کہ ہیں ! یہ بھی ہے اور یہ بھی ہے اور یہ بھی وہ ایسا مقام ہے جس سے کلیہ علیحدگی کا حکم ہے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ بھی میری جماعت میں سے نہیں ہے، وہ بھی میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اس تعلیم کو آپ پڑھیں اور پڑھنے کے بعد ہر فقرے پر ٹھہریں اور غور کریں کہ آپ کو اس سے ڈر تو نہیں لگ رہا اور آپ کو یہ دو بھر اور بوجھل تو نہیں معلوم ہو رہا اگر ہے تو وہیں خوف کا مقام موجود ہے۔جولوگ تبتل کر چکے ہیں اور ہر پہلو سے تل کر چکے ہیں ان کے لئے یہ تحریر آسان ہو چکی ہے وہ پڑھتے ہوئے بے خوف گزر