خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 792
خطبات طاہر جلد ۱۲ 792 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء سے کہاں ہوگا جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ تبتل کا اصل میں مطلب ہے بدیوں سے نجات حاصل کرنا۔بدیوں سے تعلق توڑنا ، یہ تعلق دو طرح سے ٹوٹ سکتا ہے ایک یہ کہ بدیاں دھکا دے دیں۔حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ انسان مجبور اور بے اختیار ہو جائے کوئی رستہ باقی نہ رہے ایسی صورت مثلاً یوں پیدا ہوتی ہے کہ کسی کا محبوب مرجائے تو ایسا سخت دھکا لگتا ہے کہ انسان دنیا سے ہی بیزار ہو جاتا ہے۔کسی ماں کا پیارا بیٹا فوت ہو جاتا ہے کسی کی ساری جائیداد برباد ہو جاتی ہے گھر بار کو آگ لگ جاتی ہے یا ڈا کو لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ساری عمر کی کمائی ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ایسے موقع پر تل کے لئے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں لیکن یہ تجل اصل میں وہ تبتل نہیں ہے جس کی طرف قرآن کریم بلا رہا ہے۔اس تبتل کے نتیجہ میں کئی قسم کی باتیں ہوسکتی ہیں۔مثلاً جب انسان کو ایک دھکا لگتا ہے گہرا صدمہ پہنچتا ہے تو بعض دفعہ انسان ایسی صورت میں خدا کی طرف جانے کی بجائے انسانوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ دنیا کے اس دھکے کے نتیجہ میں ضرور خدا ہی کا خیال آئے وہ اور زیادہ دنیا کی چیزوں کی طرف گرتا ہے۔بعض دفعہ ایسا آدمی ہوش گنوا بیٹھتا ہے، پاگل ہو جاتا ہے۔اس طرح اپنا تعلق تو ڑتا ہے کہ ہوش بھی جاتے رہتے ہیں۔اس مضمون میں ایک اندرونی ربط ہے اصل میں وہ تعلق جوٹوٹ نہ سکے وہ غالب آچکا ہو اس کو انسان بھلائے تو بھول سکتا ہے ورنہ ٹوٹ نہیں سکتا۔پس ایسا شخص جو کسی ایسی چیز سے محبت کرتا ہے گویا وہ اس کا معبود بن چکی ہے اس سے علیحد گی ممکن نہیں۔ایسی مائیں جو عملاً اولاد کی پرستش کر رہی ہوتی ہیں جب وہ اولا دہاتھ سے جاتی رہتی ہے تو اس لئے پاگل ہوتی ہیں کہ ہوش اور اولاد کی یاد اور اولاد کا تعلق ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔موت کے سوا علیحد گی ممکن نہیں پس ذہن میں موت آجاتی ہے اور اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔پس یہ تبتل جو دنیا کے دھکے کے نتیجے میں پیدا ہولازم نہیں کہ خدا کی طرف دھکیلے مگر خدا کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔اس لئے بعض لوگ جو کہتے ہیں فلاں شخص کو صدمہ پہنچا اور وہ بہت بزرگ بن گیا ہے۔درولیش بن گیا ہے لوگ اس کے پاس دعاؤں کے لئے جاتے ہیں لیکن وہ جو درویش ہے اس کی کیفیت میں اور اس درویش کی کیفیت میں جس نے خدا کی خاطر تعلق توڑے ہوں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔بعض دفعہ لوگ اس کو بت تو بنا لیتے ہیں لیکن وہ بت حقیقت میں خدا کے حضور سجدہ ریز