خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد ۱۲ 789 خطبه جمعه ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء ایسی نصیحتوں کا فائدہ کوئی نہیں اور ایسی نصیحتیں سننے والا مزید کے مطالبے کا حق نہیں رکھتا۔پس میں خطبات میں جو کچھ کہتا ہوں وہ بہت ہے بلکہ بعض دفعہ دل پر یہ بوجھ پڑتا ہے کہ اتنا زیادہ کہہ دیا گیا ہے کہ ابھی شاید جماعت میں اس یہ سب کچھ کو اٹھانے کی طاقت نہیں ہے لیکن بار بار دہرا کر کچھ تسلی ہوتی ہے کہ جو باتیں ضرورت سے زیادہ محسوس ہوئی ہوں، بار بار کہنے سے دل نشین ہو جائیں گی اور اس سے رفتہ رفتہ جماعت کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق ملے گی۔میں زندگی اور موت سے متعلق جو مضمون بیان کر رہا تھا اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ موت سے زندگی زیادہ مشکل ہے اور روحانی زندگی کے متعلق تو یہ سو فیصد درست ہے کہ زندہ ہونا زیادہ مشکل ہے، زندہ ہونے کی تمنا بھی مشکل ہے اور یہ خیال کہ ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ میں بدیوں سے چھٹکارا حاصل کروں اور نیکیوں کی طرف حرکت کروں۔یہ محض ایک خوش فہمی ہے۔ایک روحانی کیفیت کا نام ہے، اس میں حقیقت نہیں ہے۔عملاً جب میں نے غور کیا تو صوفیاء کا ایک مقولہ میرے ذہن میں آیا جو صوفیاء کو بہت پسند ہے کہ مو تو قبل ان تموتوا کہ مرنے سے پہلے مرجاؤ۔اس سلسلہ میں مجھے خیال آیا کہ احادیث میں مجھے یاد نہیں کہ کبھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ نے ایسا فرمایا ہو جہاں تک میں نے تلاش کیا ہے یا کروایا ہے مجھے ایسی کوئی حدیث دکھائی نہیں دی لیکن قرآن کریم میں یہ ذکر ضرور ملتا ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلائیں تو استَجيبُوا ( الانفال: ۲۵) اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کا جواب دو اور زندہ ہونے کے لئے آگے بڑھو۔پس موت کا انہیں زندگی کا ذکر ہے اور انبیاء موت سے زندہ کرنے کے لئے آتے ہیں اور اس زندگی کو دراصل دوسرے صوفیاء نے موت کا نام دے دیا ہے کیونکہ وہ زندگی موت سے بھی زیادہ دو بھر ہے جن باتوں کی طرف بلایا جاتا ہے وہ گویا مر جانے کے مترادف ہے۔پس اپنے اپنے ان تعلقات پر اگر آپ غور کریں جن تعلقات نے آپ کو خدا کے مقابل پر کسی اور بدی کا غلام بنا رکھا ہے تو پھر آپ کو بات کی کچھ سمجھ آئے گی کہ ان تعلقات سے چھٹکارا حاصل کرنا تو الگ رہا ان تعلقات سے چھٹکارے کی گہری تمنا کا پیدا ہونا بہت مشکل کام ہے۔قرآن کریم نے اسی لئے حضرت یوسف کو ایک عظیم الشان مثال کے طور پر پیش فرمایا ہے۔حضرت یوسف کی طرح کے واقعات لاکھوں، کروڑوں،