خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 788 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 788

خطبات طاہر جلد ۱۲ 788 خطبه جمعه ۱۵ را کتوبر ۱۹۹۳ء گجرات ، راولپنڈی ،لودھراں، پشاور کے اجتماعات ہیں۔پشاور کا اجتماع اگر چہ ضلعی ہے لیکن دوسرے اضلاع سے بھی خدام شرکت کر رہے ہیں اس لئے عملاً یہ صوبائی بھی بن گیا ہے۔جو اجتماع آج سے شروع ہورہے ہیں ان میں مجلس انصار اللہ ضلع اٹک ، خدام الاحمدیہ ضلع نواب شاہ اور ڈرگ روڈ کراچی کے اجتماعات ہیں۔اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ ضلع نوشہرو فیروز کا اجتماع بھی ۱۵ را کتوبر سے ہی شروع ہو رہا ہے اور کل ختم ہوگا۔جو اجتماع کل سے شروع ہوں گے ان کے ذکر کے متعلق بھی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے اس میں مجلس انصار اللہ ضلع بدین اور گجرات (پاکستان) کے اجتماع ہیں اور اسی طرح مجالس انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ ، اطفال الاحمدیہ آل آندھرا ہندوستان کے سالانہ اجتماعات ۱۶ سے شروع ہو کر ۱۷؎ اکتوبر تک جاری رہیں گے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا ہر اجتماع پر الگ الگ نصیحتوں کی نہ تو ضرورت ہے نہ عملاً ان کا کوئی فائدہ ہے کیونکہ جو صیحتیں ساری جماعت کو کی جاتی ہیں ان میں خدام، انصار، لجنات، اطفال سب پیش نظر ہوتے ہیں۔ان نصیحتوں پر کان نہ دھرنا اور الگ نصیحتوں کا مطالبہ کرنا یہ تو ایک بے معنی سی بات ہے۔اس پر تو وہی لطیفہ صادق آتا ہے جیسا کہ شاید پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ایک میراثی اپنی بہن سے ملنے گیا اور پنجاب میں یہ رواج ہے کہ جو بھائی اپنی بہن سے ملنے جاتا ہے وہ پنیاں لے کر جاتا ہے وہ بے چارہ کبڑا تھا اور بہن کے گلہڑ نکلے ہوئے تھے۔گٹھلیاں سی دونوں طرف تھیں، بہن نے جب دیکھا کہ بھائی خالی ہاتھ آیا ہے تو مذاق کے طور پر اس نے کہا کہ بھائی اپنوں کی یہ گھڑی جو تم نے اٹھا رکھی ہے اتار کر مجھے پکڑا دو یعنی اس کے کبڑا ہونے کی طرف اشارہ تھا اور مذاق تھا کہ تم خالی ہاتھ آئے ہو، ہاتھ میں تو کچھ نہیں ہے۔شاید تم نے پیٹھ کے اوپر یہ پیوں کی گٹھڑی اٹھا رکھی ہے۔بھائی میراثی تھا اس نے فورا جواب دیا کہ پہلے انگلیاں تے لنگائے، یعنی جو پہلے گلے میں انکلی ہوئی ہیں وہ تو پہلے کھاؤ پھر دوسری پنیوں کا مطالبہ کرنا تو جب بھی مجھ سے بار بار نصیحتوں کا مطالبہ ہوتا ہے تو ذہن اس لطیفے کی طرف چلا جاتا ہے۔وہ لطیفہ تو محض مذاق ہے لیکن جو میں کہہ رہا ہوں یہ حقیقت ہے وہ نصیحتیں جو پہلے کی جائیں اگر وہ گلے میں انکی رہ جائیں اور دل تک نہ اتریں یا کانوں میں پھنس جائیں اور ذہن میں نہ جائیں تو