خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 780
خطبات طاہر جلد ۱۲ 780 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء خاص طور پر قابل ذکر بات یہ ہے اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں یا يُّهَا النَّاسُ نہیں فرمایا يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا فرمایا ایمان لانے والے تو پہلے ہی زندہ ہو چکے ہیں۔پھر نئی زندگی سے کیا مراد ہے جس کی طرف بلایا جا رہا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تبتل مراد ہے ایمان لانے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنے کی پہلی صلاحیت عطا ہوئی ہے مگر ابھی دنیا سے تبتل نہیں ہوا۔اب یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر شخص اپنے نفس پر غور کر کے جانچ سکتا ہے، پہچان سکتا ہے، ہر انسان صاحب تجربہ ہے۔ہم سب جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لاکر آنحضرت میﷺ سے تجدید بیعت کر چکے ہیں۔آپ پر دوبارہ حقیقی اور گہرا ایمان لے آئے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم تبتل کی مختلف حالتوں پر ہیں۔ہم میں سے بہت سے ہیں جو ایمان لانے کے باوجود اس آواز پر لبیک نہیں کہہ سکتے جو زندگی کی آواز ہے اور وہ زندگی ایک قسم کی موت کو چاہتی ہے۔مردوں سے نکل کر زندگی میں آنا مردہ حالت پر موت وارد کرنے کے مترادف ہے اور ویسی ہی تکلیف دہ چیز ہے جیسے زندگی سے موت میں داخل ہونا لیکن زاویہ نظر بدل جاتا ہے۔جس طرح ایک زندہ کے لئے بڑی مصیبت ہے کہ وہ موت کو اپنے سامنے کھڑا دیکھے اور اپنی طرف آتا ہوا محسوس کرے پتا ہو کہ اب میں جانے والا ہوں۔ایسی حالت میں انسان کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں لیکن وہ لوگ جو مردے ہیں جب ان کو موت سے زندگی کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔زندگی کا جواب ہاں میں دینا بڑی مصیبت ہے۔اب یہ بات تو قطعی طور صلى الله پر ثابت ہوگئی کہ آنحضرت ﷺہ مومنوں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔جو ایمان لے آئے ہیں ان کو زندگی بخشنا چاہتے ہیں اور زندگی کی راہوں کی طرف بلا رہے ہیں۔فرمایا: اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ اللہ اور اس کے رسول کو ہاں میں جواب دو اس کی آواز پر لبیک کہو لیکن جب لبیک کے موقعے آتے ہیں تو ہم اپنے اندر کتنی کمزوریاں پاتے ہیں اور وجہ یہی ہے کہ ہمارا تبال نہیں ہوا۔ہم رسوں سے بندھے ہوئے ہیں۔جہاں جہاں آنحضور ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے دقت محسوس کی جائے یا لبیک نہ کہی جائے ایسی مجبوری ہو جائے یا بہت زور لگا نا پڑے اور بڑی مصیبت سے قربانی کر کے لبیک کہنا پڑے تو اس موقع پر آپ بہترین طور پر اپنی جانچ کر سکتے ہیں کہ کتنا آپ کا تل ہوا ہے اور کتنا ہونا باقی ہے۔