خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 777

خطبات طاہر جلد ۱۲ 777 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء کرتا ہے۔وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ یاد رکھو کہ یہ جو زندگی اور موت کا سلسلہ اور ان کا ادلنا بدلنا ہے جہاں تک انسان کا تعلق ہے تمہارے لئے یہ آخری بات نہیں ہے۔تم پھر زندہ کئے جاؤ گے اور جب زندہ کئے جاؤ گے تو حساب کتاب کے لئے زندہ کئے جاؤ گے۔دنیا میں جو تمہاری آزمائشیں ہو رہی ہیں ان کی جزا یا سز ا تمہیں مرنے کے بعد دی جائے گی اس بات کو نہ بھولنا۔ہمارے سامنے سزا یا جزا کے دو قسم کے نظام رکھ دیئے۔ایک وہ جو انسانی زندگی کے بدلتے ہوئے حالات اور قوموں کے تغیرات سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ بہت سی قو میں جو اپنے عروج کی حالت میں کبھی آسمان سے باتیں کر رہی تھیں اور انتہائی تکبر میں مبتلا تھیں وہ پیوند خاک ہو گئیں اور ان کی عظمتیں مٹ گئیں، ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ تاریخ کے صفحات میں ان کا ذکر ماتا ہے اور بہت سی مردہ تو میں جن پر بعض غالب تو میں سوار تھیں اور یوں لگتا تھا کہ وہ کبھی بھی اس حالت سے باہر نہیں نکل سکیں گی وہ دنیا پر غالب آئیں اور ان پہلوں کے نشان مٹ گئے لیکن وہ باقی رہیں۔پس تاریخ عالم جو سبق دیتی ہے یہ سبق بھی ان آیات میں مذکور ہے لیکن ساتھ ہی فرمایا گیا کہ ادلنے بدلنے کا یہ مضمون اس دنیا میں ختم نہیں ہو جائے گا۔آخر پھر تم زندہ کئے جاؤ گے اور اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (المومنون :۸۰) تم گھیر گھار کے جوق در جوق خدا کی طرف لے جائے جاؤ گے جس طرح ایک گڈریا اپنے گلے کو ہانک کر یا گھیر کر اس مقام کی طرف لے کر جاتا ہے جہاں اسے لے جانا مقصود ہو اسی طرح بالآخر تم اللہ کی طرف لوٹو گے۔اس میں جو روحانی مضمون ہے وہ یہ ہے کہ مذہبوں کا بھی یہی حال ہے بہت سے مذاہب انبیاء کے ذریعے زندہ کئے جاتے ہیں وہ مردوں سے نکلتے ہیں لیکن اگر وہ اپنی زندگی کی حفاظت نہ کرسکیں تو بعد میں آنے والی نسلیں مرجاتی ہیں۔یہ مضمون کمال کے ساتھ اس صورتحال پر بھی صادق آتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو انبیاء کوقبول کرتے ہیں اور ان سے زندگی پاتے ہیں وہ بحیثیت قوم خود نہیں مرا کرتے۔ان کی وہ زندگی ویسی ہی ابدی ہے جیسا کہ فرمایا کہ زمین کو اللہ تعالیٰ اس کے بعد پھر زندہ کر دے گا اور اس زندگی کے بعد تم خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔وہ ایک ابدی زندگی ہے۔پس جہاں تک انبیاء کو قبول کرنے والی قوموں کا اور ان پہلی نسلوں کا تعلق ہے جنہوں نے قربانیاں دے کر